کیا یہ حسینیت ہے؟ - توحید احمد خان رضوی | Islamic Article | Tehseeni Foundation
📞 WhatsApp: 7417998845
📍 Bareilly, Uttar Pradesh

کیا یہ حسینیت ہے؟

توحید احمد خان رضوی

کیا یہ حسینیت ہے؟
📅 07 Jun 2026 👁 340 Views

کیا یہ حسینیت ہے؟

نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات حق، صداقت، شجاعت اور قربانی کی عظیم علامت ہے۔ کربلا کا عظیم واقعہ اسلامی تاریخ کا ایسا روشن باب ہے جس نے سچائی کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے، حق کے مقابلے میں ڈٹ جانے اور شریعت مطہرہ کی حفاظت و احترام کے لئے جان واولاد کی قربانی پیش کرنے کا درس دیا ہے۔

لیکن افسوس آج کل کچھ لوگ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر ایسے کام کرنے لگے ہیں جس کے خلاف امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی اور اپنے خاندان والوں کی قربانی پیش کرنا پڑی تھی۔ حسینی ہونے کا دعویٰ کرنے والے خود اس راہ پر چلنے لگے ہیں جس راہ کو بند کرنے کے لئے امام حسین کو میدان میں آ نا پڑا۔ جس شریعت مطہرہ کی حفاظت کے لئے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قربانی پیش کرنا پڑی آج ان کے نام پر اسی شریعت کے احکام کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

محرم الحرام کے ایام میں نہ جانے کتنے اپنے آپ کو حسینی کہلانے والے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر ڈھول باجے بجاتے نظر آئیں گے جبکہ شریعت مطہرہ میں ڈھول باجے کو ناجائز و حرام قرار دیا ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نانا جان سرکار دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے: "میرے رب نے مجھے بانسری اور گانے باجے کے آلات کو توڑنے کا حکم دیا ہے"۔ (مسند امام احمد بن حنبل) دوسری جگہ مختار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا ارشاد ہے: "ﷲ تعالیٰ نے شراب اور جوا اور کوبہ (ڈھول)حرام کیا اور فرمایا:ہر نشہ والی چیز حرام ہے"۔(سنن الکبری للبیھقی،کتاب الشھادات).

محرم الحرام میں امام حسین کے نام پر جگہ جگہ مختلف طرح کے تعزیے بنائے جاتے ہیں اور اس پر طرح طرح کے غیر شرعی کام کیے جاتے ہیں۔اس کے ساتھ زور زور سے ڈھول پیٹا جاتا ہے، تاشے بجائے جاتے ہیں، بے پردہ خواتین کا ہجوم بھی سڑکوں پر نکل آتا ہے۔ وہ بے پردہ عورتیں فخر کے ساتھ تعزیئے پر چڑھاوا چڑھاتی ہیں۔ مرد حضرات بھی اس میں شریک ہوتے ہیں اپنے بچوں کو بھی ساتھ لاتے ہیں تاکہ جاہلوں کا تماشا اپنے چھوٹے بچوں کو دکھا کران کا گناہ بھی اپنے سر لیں۔ نذرونیاز جیسی بابرکت چیز کو چھتوں سے پھینکا جاتا ہے‘ رزق کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ اس طرح کے نہ جانے اور کتنے غیر شرعی کام کیے جاتے ہیں بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ تعزیئے بنا کر امام حسین رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے نام پر کمائی کا دھندہ کھل جاتا ہے۔ شریعت مطہرہ نے مروجہ تعزیہ داری کو ناجائز قرار دیا ہے۔ 

حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "عشرہ محرم میں تعزیہ داری اور تعزیے یا قبروں کی صورت بنانا جائز نہیں ہے". فتاویٰ عزیزیہ : ۷۲، مطبوعہ دہلی)

۷ محرم الحرام سے لیکر ۱۰ محرم الحرام تک جگہ سڑکوں پر طرح طرح کے غیر شرعی کام امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر کرے جاتے ہیں، کہیں کوئیں میں چینی ڈالی جاتی ہے، کہیں کسی جگہ کے چکر لگائے جاتے ہیں، کہیں علم یا تعزیہ پر میوے چڑھائے جاتے ہیں، جس میں مردوں کے ساتھ اکثریت بے پردہ عورتوں کی ہوتی ہے۔ سڑکوں پر آوارہ لڑکوں کا ہجوم اور ان کا لڑکیوں کو تاکنا جھانکنا اور جوان لڑکیوں کا بن سنور کر نکل کر لڑکوں کو بد نگاہی کے لیے اکسانا۔ جگہ جگہ ڈھول باجے تاشے کی دھن پر منہ میں گٹکا دبائے رقص جیسی حالت بنانا اور نہ جانے کتنے ایسے کام ہیں جنہیں دیکھ کر ہر دردمند اور با شعور انسان کے دل سے ایک ہی بات نکلتی ہے کہ یہ حسینیت نہیں ہے۔ حسینیت تو نام ہے شریعت کی پاسداری کا، حسینیت تو نام ہے سنت مصطفی کی پیروی کا، حسینیت تو نام ہے ڈھول باجے تاشے سے خود بھی دور رہنے اور دوسروں کو بھی روکنے کا، حسینیت تو نام ہے بے حیائی اور برائیوں سے رکنے کا۔ ان تمام حرکات کو کرنے والا کتنے ہی دعوے کر لے وہ سچا حسینی نہیں ہو سکتا۔ 

اب یہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر ڈھول بجانے والے سوچیں کہ کیا وہ حسینیت کا کام کر رہے ہیں یا یزیدیت کا؟ کیونکہ شرعی مخالف کاموں میں یزید آگے تھا اسی لیے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی بیعت نہی فرمائی۔ شریعت مطہرہ کے احکام کی خلاف ورزی یزید نے کی تھی امام حسین نے اس شریعت کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی قربانی پیش کی اور آج انہیں کے نام پر تم اسی شریعت کے خلاف کام کر رہے ہو۔

حسینی ہونے کا صرف دعویٰ بیکار ہے بلکہ سچا حسینی ہونے کے لئے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کو درس دیا ہے اس پر عمل کرنا ہوگا۔ حضرت امام حسین کی سیرت اور ان کی تعلیمات کو پڑھنا ہوگا۔ جب آپ حضرت امام حسین کی سیرت کو پڑھیں گے تو آپ پر یہ بات واضح ہو جائے گی کہ حضرت امام حسین کی سیرت ایک اہم پہلو یہ ہے کہ آپ نے ہر حال میں سنت نبوی کو اختیار فرمایا اور کبھی بھی شریعتِ مصطفی کے دامن کو ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیا۔ آپ کی عبادت، معاملات، اخلاق اور طرز زندگی سب کچھ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر تھا۔ اس لیے جو شخص حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سچی محبت رکھتا ہے، اس کی محبت کا اثر اس کی نماز، اس کے اخلاق، اس کے معاملات اوراس کے سنت مصطفی پر عمل کرنے میں نظر آنا چاہیے۔ اگر محبت محض رسمی نعروں تک محدود ہو جائے تو وہ محبت اپنے مطلوبہ ثمرات کو حاصل نہیں کر پاتی ہے۔ واقعہ کربلا حق کو باطل پر اور شریعت مطہرہ کے تحفظ کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینے کا درس دیتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس درس کو سمجھا جائے اور اپنی طرز زندگی کو تعلیمات امام حسین کی روشنی میں ڈھالا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضرت امام حسین کی سچی محبت کرنے، شریعت مطہرہ پر عمل کرنے اور محرم پر ہونے والے غیر شرعی کاموں سے دور رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔