مزارات پر حاضری کا طریقہ اور آداب - توحید احمد خان رضوی | Islamic Article | Tehseeni Foundation
📞 WhatsApp: 7417998845
📍 Bareilly, Uttar Pradesh

مزارات پر حاضری کا طریقہ اور آداب

توحید احمد خان رضوی

مزارات پر حاضری کا طریقہ اور آداب
📅 30 May 2026 👁 252 Views

مزارات پر حاضری کا طریقہ اور آداب

مزارات پر حاضری کا طریقہ اور آداب اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کے مزارات پر حاضری دینا مستحسن اور دینی دنیوی فوائد حاصل ہونے کا ذریعہ ہے کیونکہ مزارات اولیاء منبع انوار و تجلیات ہوتے ہیں۔ لیکن آج کل عوام کی دین سے دوری اور علم شریعت سے نا واقف ہونے کی وجہ سے اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری میں غلو کرنے اور غیر شرعی طور طریقہ اختیار کرنے کے معاملات بڑھتے جا رہے ہیں جس سے بچنا اور بچانا نہایت ضروی ہے۔ جاھل عوام کی ان حرکات کی وجہ سے بد مذہبوں کو موقع مل جاتا ہے مزارات اولیاء پر تنقید کرنے کا۔ لہذا ضروری ہے کہ مزارات کے ذ مہ دران اور دیگر حضرات اس طرف توجہ فرماتے ہوئے عوام کو مزارات پر حاضری کے طور طریقے اور آداب سکھائیں تاکہ صاحب مزار کے فیوض و برکات سے مستفیض ہوں۔

اولیاء اللہ کے مزارات پر جانا اور وہاں پر ایصال ثواب کرنا جائز اور مستحسن عمل ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم شہدائے احد کے مزارات پر ہر سال تشریف لے جایا کرتے تھے چنانچہ مصنف عبد الرزاق میں ہے: ”کان النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  یاتی قبور الشھدا ء  عند راس الحول  فیقول” السلام علیکم  بما  صبرتم فنعم عقبی الدار “ قال : وکان ابو بکر و عمر و عثمان  یفعلون ذلک“۔ یعنی نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سال کے شروع  میں شہداء ِ احد کے مزارات پر تشریف لے جایا کرتے تھے اور فرماتے:’’ السلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار “راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر ، عمر، عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ بھی ایسا ہی  کیاکرتے تھے ۔ (مصنف عبد الرزاق ،کتاب الجنائز ، باب زیارۃ القبور ، جلد3،صفحہ 381،مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ،  بیروت)

اور ہمارے اسلاف کا بھی یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ اللہ کے مقرب بندوں کے مزارات پر حاضر ہوکر ایصال ثواب کرتے اور ان کے وسیلے سے دعائیں مانگتے تھے چنانچہ شیخ شہاب  الدین  احمد بن حجر ہیتمی مکی رحمۃ اللہ علیہ لکھتےہیں :’’لم یزل العلماء  و ذوو الحاجات  یزورون قبرہ و یتوسلون عندہ  فی قضاء حوائجھم  ویرون نجح  ذالک  منھم الامام الشافعی  رحمہ اللہ لما کان ببغداد  فانہ جاء عنہ انہ قال انی لا تبرک بابی حنیفۃ  واجی الی قبرہ فاذا عرضت  لی حاجۃ صلیت رکعتین و جئت  الی قبرہ و سالت اللہ عندہ فتقضی سریعا “ترجمہ:ہمیشہ سے علماءاورحاجت مند لوگ امام اعظم رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کےمزار کی زیارت کرتےاوراپنی حاجتیں پوراکرنے کے لیے آپ کا وسیلہ پیش کرتے رہے ہیں  اور اسے اپنے لیے باعث شرف سمجھتے ہیں،انہی علما میں سے امام شافعی رحمۃاللہ علیہ بھی ہیں، جن کے متعلق یہ بات مروی ہےکہ آپ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں :جب میں بغدادمیں قیام پذیر تھا،  تو  امامِ اعظم رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ  سےبرکت حاصل کیاکرتاتھا ،جب مجھےکوئی حاجت پیش آتی تو میں امام اعظم کے مزار پر آتااوردورکعتیں پڑھتا،پھر ان کی قبر  مبارک  پرحاضری دیتا اوروہاں اللہ پاک سےدعاکرتا،توفوراًمیری حاجت پوری ہو جاتی  ۔ (الخیرات الحسان، صفحہ72، مطبوعہ مکتبۃالسعادۃ،مصر)

مزارات پر حاضری کا طریقہ:

مزار پر حاضری کا طریقہ بیان فرماتے ہوئے امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:  مزارات ِشریفہ پر  حاضرہونے میں پائنتی کی طرف سے جائے اور کم ازکم چار ہاتھ کے فاصلے پر مواجہہ میں کھڑا ہو اور متوسط آواز بادب عرض کرے ’’السّلام علیک یا سیدی ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ ‘‘ پھر درودغوثیہ تین بار، الحمد شریف ایک ، آیۃ الکرسی ایک بار، سورہ اخلاص سات بار، پھر درود غوثیہ سات بار اور وقت فرصت دے ،  تو سورہ یٰسں او رسورہ ملک بھی پڑھ کر اللہ عزوجل سے دعا کرے کہ الہی ! اس قراءت  پر مجھے اتنا ثواب دے جو تیرے کرم کے قابل ہے، نہ اتنا جو میرے عمل کے قابل ہے او راسے میری طرف سے اس بندۂ مقبول کو نذر پہنچا، پھر اپنا جو مطلب جائز شرعی ہو ا س کے لیے دعا کرے اورصاحب مزار کی روح کو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اپنا وسیلہ قراردے ، پھر اُسی طرح سلام کرکے واپس آئے، مزار کو نہ ہاتھ لگائے، نہ بوسہ دے اور طواف بالاتفاق ناجائز ہے اور سجدہ حرام ۔ “(فتاوی رضویہ  ، جلد  9، صفحہ  522، مطبوعہ  رضا  فانڈیشن)

مزار کو بوسہ دینے کے تعلق سے حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "ہاتھ سےقبر کو نہ چھوئےاور نہ اُسے  بوسہ دے  اور نہ جھکےاور چہرے پر قبر کی مٹی  نہ ملےکہ یہ نصاریٰ کی عادت   ہے۔ “(اشعۃ اللمعات ،  جلد  2 ، صفحہ 924، مطبوعہ  فرید  بک سٹال)

اور اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: جمہور علماء(قبر کو بوسہ دینا)  مکروہ جانتے ہیں ، تو اس سے احتراز ہی چاہیے۔  (فتاوی رضویہ ، جلد  9، صفحہ  526، مطبوعہ  رضا  فانڈیشن)

مزارات پر عورتوں کی حاضری:

آجکل مزارات پر عورتوں کی بھیڑ بھی ایک فتنے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جبکہ فقہاء کرام نے مزارات پر عورتوں کی حاضری کو منع فرمایا ہے۔ امام اہل سنت اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے تو اس پر پوراایک رسالہ "جمل النور فی نہی النساء عن زیارۃ القبور" تحریر فرمایا جس میں آپ نے دلائل و شواہدکے ذریعہ مزارات پر عورتوں کی حاضری سے منع فرمایا۔ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں ہے:’’لقد كره اكثر العلماء خروجهن الى الصلوات فكيف الى المقابر؟ وما اظن سقوط فرض الجمعة عليهن الا دليلا على امساكهن عن الخروج فيما عداها‘‘اکثر علماء نے عورتوں کا نماز کے لئے نکلنے کو مکروہ قرار دیا ہے،تو قبرستان میں جانے کی کیسے اجازت ہو گی ؟میرا یہ گمان ہے کہ عورتوں سے جمعہ کا ساقط ہو جانا جوفرض ہے اس بات کی دلیل ہے کہ عورتوں کو جمعہ کے علاوہ نکلنے سے بھی منع کیا جائے گا۔(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری،ج8،ص 69، دار إحياء التراث العربي، بيروت)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان  رحمۃ اللہ علیہ عورتوں کی جماعت اور قبرستان کی حاضری کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:’’ان الفتوی علی المنع مطلقا ولو عجوزا ولو لیلا فکذلک فی زیارۃ القبوربل اولی‘‘ ترجمہ: فتوی اس بات پر ہے کہ عو رتوں کو جماعت کی حاضری مطلقا منع ہے ،اگرچہ بوڑھی ہوں اگرچہ رات کو جائیں،ایسے ہی زیاراتِ قبور کے بارے میں حکم ہے بلکہ اس میں بدرجہ  اولی منع کی جائیں گی۔(جد الممتار علی رد المحتار ،ج3، ص686، مکتبۃ المدینہ)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں: "یہ نہ پوچھو کہ عورتوں کا مزاروں پر جانا جائز ہے یا نہیں؟ بلکہ یہ پوچھو کہ اس پر کس قدر لعنت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور کس قدر صاحب قبرکی جانب سے۔ جس وقت وہ گھر سے ارادہ کرتی ہے لعنت شروع ہو جاتی ہے اور جب تک واپس آتی ہے ملائکہ لعنت کرتے رہتے ہیں۔ سوائے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی مزار پر جانے کی اجازت نہیں۔ وہاں کی حاضری البتہ سنت جلیلہ عظیمہ قریب بواجبات ہے اور قرآن کریم نے اسے مغفرت کا ذریعہ بتایا۔ (ملفوظات شریف، ص ۲۴۰, ملخصا)