عید غدیر کی شرعی حیثیت - توحید احمد خان رضوی | Islamic Article | Tehseeni Foundation
📞 WhatsApp: 7417998845
📍 Bareilly, Uttar Pradesh

عید غدیر کی شرعی حیثیت

توحید احمد خان رضوی

عید غدیر کی شرعی حیثیت
📅 04 Jun 2026 👁 145 Views

عید غدیر کی شرعی حیثیت

18 ذوالحجہ کو ایک گروہ ایک ایسی عید مناتا ہے جس عید کی اسلامی تاریخ اور شریعت مطہرہ میں کوئی اصل نہیں ہے۔  اس عید غدیر کا بانی عراقی شیعہ حاکم معز الدین احمد بن ابویہ دیلمی ہے۔سب سے پہلے اس نے رافضیوں کے ساتھ 18 ذی الحجہ 352 ھ کو بغداد میں عید غدیر منائی۔
نیز عید غدیر اس نیت سے منانا کہ مولا علی کرم اللّٰہ وجہہ الکریم کو خلیفہ بلا فصل بنایا گیا تھا یہ روافض کی بدعت سیئہ و شنیعہ ہے جو سراسر باطل اور گمراہی پر مبتلا ہے۔ مسلمانوں کو اس سے بچنا ضروری ہے۔
شیعہ عید غدیر کیوں مناتے ہیں:
غدیر خم پر حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے بارے میں فرمایا "جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں". شیعہ گروہ اس حدیث سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت بلا فصل ثابت کرتے ہیں اور اس دن کو عید مناتے ہیں۔ ان کا اس سے حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو خلفیہ بلا فصل ماننا سراسر غلط ہے اور دوسری کوئی حدیثوں کے خلاف ہے۔ غدیر خم پر حضور کے اس فرمان کا پس منظر کیا تھا اس کو ملاحظہ فرمائیں پھر اس حدیث کے تعلق سے محدثین اور فقہاء نے کیا فرمایا ہے اس کو بھی پیش کریں گے۔ اس فرمان کا پس منظر یہ ہے کہ رمضان المبارک 10 ہجری میں نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے مولی علی رضی اللہ تعالی عنہ کو مالِ غنیمت کا خمس یعنی پانچواں حصہ وصول کرنے کے لیے یمن کی طرف ایک لشکر کا امیر بناکر بھیجا تھا، پھر نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لے آئے ، یہیں قیام کے دوران مولیٰ علی رضی اللہ تعالی عنہ بھی مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور خمس نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا۔ اس سفر میں مولی علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بعض ساتھیوں کو آپ کے کچھ فیصلوں سے اختلاف ہوا، سفر سے واپسی پر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں اس بات کی شکایت کی۔ اس پر نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے غدیرخم (بمعنی تالاب خم ایک جگہ ہے حجفہ منزل سے تین میل دور ہے) کے مقام پر خطبہ ارشاد فرمایا جس میں مولیٰ علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ان فیصلوں کو درست قرار دیا اور ان کے ساتھ محبت و عقیدت کا معاملہ رکھنے اور بد گمانی سے بچنے کی تلقین فرمائی۔

اس پس منظر کے متعلق مستدرک میں ہے:

” عن بريدة الأسلمى رضى الله عنه قال: غزوت مع على إلى اليمن فرأيت منه جفوة، فقدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت عليا فتنقصته فرأيت وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم يتغير، فقال: يا بريدة، ألست أولى بالمؤمنين من أنفسهم؟ قلت: بلى يا رسول الله ، فقال : من كنت مولاه فعلی مولاه وذكر الحديث ، هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه “۔ ۔(المستدرک، جلد 3، صفحه 119، مطبوعہ دار الكتب العلميه، بيروت)
ترجمہ : حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مولیٰ علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ یمن کی طرف گیا، تو میں نے ان میں کچھ نامناسب بات دیکھی، تو میں نے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر مولیٰ علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف نقص کی نسبت کر دی، تو نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا، ارشاد فرمایا: اے بریدہ! کیا میں مومنوں کا ان کی جانوں سے زیادہ مالک نہیں ہوں ؟ میں نے عرض کی، کیوں نہیں یارسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرمایا: جس کا میں مولی (محبوب) ہوں، علی بھی اس کے مولیٰ (محبوب) ہیں۔ یہی پس منظر سنن الکبریٰ اور امام احمد بن حنبل کی کتاب فضائل صحابہ اور دوسری احادیث کی کتب میں بیان کیا گیا ہے۔
مذکورہ تفصیل سے یہ بات واضح ہو گئی کہ غدیر خم کے مقام پر حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا مقصد مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امامت و خلافت کو بیان کرنا نہیں تھا، بلکہ ان شکوک و شبہات کا ازالہ مقصود تھا جو مولیٰ علی رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق بعض لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوئے تھے ، اس لیے مولیٰ علی رضی اللہ تعالی عنہ کی براءت کے اظہار کے بعد ان سے محبت کا حکم ارشاد فرمایا۔ لہذا حدیث پاک میں لفظ مولیٰ سے مراد خلیفہ بلا فصل نہیں، بلکہ دوست اور محبوب ہے اور اگر نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا مقصد مولیٰ علی رضی اللہ تعالی عنہ کی امامت و خلافت کو بیان کرنا ہوتا ، تو صاف طور پر واضح الفاظ میں اس بات کا اظہار فرما دیتے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ میرے بعد خلیفہ ہوں گے۔
علامہ ملاعلی قاری اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

”مـن كـنت مولاه فعلی مولاہ‘‘قیل، معناه مـن كـنت أتولاه فعلى يتولاه من الولى ضد العدو أي : من كنت أحبه فعلى يحبه، وقيل معناه : من يتولاني فعلى يتولاه، كذا ذكره شارح من علمائنا “

ترجمہ:جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس کے معنی ہیں: جس سے میں دوستی رکھتا ہوں اس سے علی دوستی رکھتے ہیں ۔ دوست بمقابلہ دشمن یعنی جس سے میں محبت کرتا ہوں اس سے علی محبت کرتے ہیں ۔ اور یہ معنی بھی اس کے کئے گئے ہیں کہ جس شخص نے مجھ سے دوستی رکھی تو علی اس سے دوستی رکھتے ہیں۔ ہمارے شارحین علما نے ایسا ہی ذکر کیا ہے ۔

اس حدیث سے مولی علی کی امامت پر استدلال کرنے والے شیعوں کا رد کرتے ہوئے ملاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

”قالت الشيعة :هو متصرف، وقالوا : معنى الحديث أن عليا رضي الله عنه يستحق التـصـرف فـي كـل مـا يستحق الرسول – -التـصـرف فـيـه، ومن ذلك أمور الـمـؤمنين فيكون إمامهم أقول:لا يـسـتـقـيـم أن تـحـمل الولاية على الإمامة التي هي التصرف في أمور المؤمنين، لأن المتصرف المستقل في حياته هو هو لا غير فيجب أن يحمل على المحبة وولاء الإسلام ونحوهما“۔  (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابیح، کتاب المناقب،باب مناقب علی رضی اللّٰہ عنہ،فصل ثانی، 11/ 247،مطبوعہ رشیدیہ)
ترجمہ:شیعہ نے کہا کہ وہ متصرف (تصرف کرنے والے) ہیں اور کہا کہ حدیث کا معنی یہ ہے کہ علی ہر اس معاملہ میں تصرف کاحق رکھتے ہیں جس میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تصرف کا حق رکھتے ہیں ۔اور انہی میں سے مسلمانوں کے معاملات ہیں پس وہ ان کے امام ہوئے۔ میں کہوں گا کہ ولایت کو اس امامت پر جو مومنین کے معاملہ میں تصرف ہے محمول کرنا درست نہیں اس لئے کہ مستقل متصرف اپنی حیات میں نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہیں کوئی غیر نہیں تو واجب ہے کہ اسے محبت اور اسلام کی ولاء اوران دونوں کے مثل پرمحمول کیا جائے۔
اس حدیث کے تعلق سے تشریح کرتے ہوئے حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی صاحب علیہ الرحمہ نے بہت اچھی باتیں بیان فرمائی ہیں جن کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ آپ تحریر فرماتے ہیں:
” مولی کے معنی میں دوست ، مددگار، آزاد شد و غلام، آزاد کر نے والا مولی ۔ اس کے معنی خلیفہ یا بادشاہ نہیں۔ علی کہتے ہیں رب فرماتا ہے ” فان الله هو مولاہ و جبريل و صالح المؤمنين“۔ شیعہ کہتے ہیں کہ مولا بمعنی خلیفہ ہے اور اس حدیث سے لازم ہے کہ بجز حضرت علی کے خلیفہ کوئی نہیں آپ خلیفہ بلافصل ہیں۔
 مگر یہ غلط ہے چند وجہ سے ۔
ایک یہ کہ مولی بمعنی خلیفہ یا بمعنی اولی بالخلاف کبھی نہیں آتا بتاؤ اللہ تعالی اور حضرت جبریل کس کے خلیفہ ہیں حالانکہ قرآن مجید میں انہیں مولی فرمایا”فإن الله هو مولاہ و جبريل“ دوسرے یہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کسی کے خلیفہ ہیں پھر من کنت مولاہ کے کیا معنی ہوں گے ۔
تیسرے یہ کہ حضرت علی حضور کی موجودگی میں خلیفہ نہ تھے حالانکہ حضور نے اپنی حیات شریف میں میں فرمایا پھر مولی بمعنی خلیفہ کیسے ہوگا ۔
چوتھے یہ کہ اگر مان لو کہ مولی بمعنی خلیفہ ہی ہو تو بھی بلافصل خلافت کیسے ثابت ہوگی۔ واقعی آپ خلیفہ ہیں مگر اپنے موقعہ اپنے وقت میں ۔
پانچویں یہ کہ اگر یہاں مولی بمعنی خلیفہ ہوتا تو جب سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار سے حضرت صدیق اکبر نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ، الخلافۃ فی القریش، خلافت قریشی میں ہے ۔ تم لوگ چونکہ قریش نہیں لہذا تم امیر نہیں بن سکتے ،وزیر بن سکتے ہو۔ اس وقت حضرت علی نے یہ واقعہ لوگوں کو یاد کیوں نہ کرادیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو مجھے خلافت دے گئے میرے سوا کوئی خلیفہ نہیں ہوسکتا۔ بلکہ آپ خاموش رہے اور تینوں خلفاء کے ہاتھ پر باری باری بیعت کرتے رہے۔ معلوم ہوا کہ آپ کی نظر میں بھی یہاں مولی بمعنی خلیفہ نہ تھا۔
چھٹے یہ کہ حضور کے مرض وفات میں حضرت عباس نے جناب علی سے کہا کہ چلو حضور سے خلافت اپنے لیے لے لو حضرت علی نے انکار کیا کہ میں نہیں مانگوں گا ورنہ حضور مجھے ہرگز نہ دیں گے۔ اگر یہاں مولی بمعنی خلیفہ تھا تو یہ مشورہ کیسا۔
ساتویں یہ کہ خلافت کے لیے روافض کے پاس نص قطعی الثبوت او قطعی الدلالت چاہیے یہ حدیث نہ تو قطعی الثبوت ہے کہ حدیث واحد ہے نہ قطعی الدلالت کہ مولی کے بہت معنی ہیں اور مولی بمعنی خلیفہ کہیں نہیں آتا۔‘‘ (مرآۃ المناجیح شرح مشكاة المصابیح، ج8،ص353/354)
 حدیث غدیر کی شرح جو سیاق و سباق سے ثابت ہے اس کے مطابق مولا کے معنی خلیفہ و حاکم نہیں بلکہ دوست،محبوب وغیرہ ہیں۔ حضرت علی المرتضیٰ کو اس حدیث سے خلیفہ بلافصل ماننا دیگر احادیث کے صریح خلاف ہے جوکہ گمراہی ہے کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بلا فصل ہونے پر اجماع ہے۔ لہذا اہل سنت پر لازم ہے کہ وہ عید غدیر کے نام پر محافل منعقد کرنے سے بچیں کہ یہ بدمذہبوں کا شعار ہے۔

حضرت علی المرتضیٰ کو خلیفہ بلافصل ماننا:
شیعہ گروہ کے لوگ حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو خلیفہ بلا فصل مانتے ہیں جو احادیث کے خلاف ہے۔ ہم یہاں پر صرف چند حدیثیں پیش کرتے ہیں جن سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلیفہ اول ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 
 " لَا يَنْبَغِي لِقَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ ".  ۔‘‘( جامع ترمذی، ابواب المناقب، باب مناقب ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ، حدیث 3673)
ترجمہ: کسی قوم کو زیب نہیں دیتا کہ ابو بکر کی موجودگی میں کوئی اور امامت کرے.
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
’’ وفيه دليل على انه افضل جميع الصحابة، فاذا ثبت هذا فقد ثبت استحقاق الخلافة‘‘.
( مرقاۃ المفاتیح، کتاب المناقب، باب مناقب ابی بکر رضی اللہ عنہ، جلد 11، صفحہ 182، مطبوعہ کوئٹہ)
ترجمہ: اس حدیث میں دلیل ہے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جمیع صحابہ کرام سے افضل ہیں، پھر جب افضلیت ثابت ہو گئی، تو خلافت کا حقدار ہونا بھی ثابت ہو گیا.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’اقتدوا بالذین من بعدی ابی بکر وعمر‘‘۔ ( جامع ترمذی، ابواب المناقب، باب مناقب ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ، حدیث 3662)
ترجمہ: میرے بعد ابو بکر و عمر ( رضی اللہ عنہما) کی پیروی کرنا۔ 
بخاری شریف میں ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’كُنَّا نُخَيِّرُ بَيْنَ النَّاسِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنُخَيِّرُ أَبَا بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ثُمَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رضى الله عنهم‏". ( صحیح البخاری، ابواب المناقب، باب فضل ابی بکر بعد النبی صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث 3655)
ترجمہ: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کو سب سے افضل سمجھتے تھے، پھر عمر بن خطاب کو اور پھر عثمان بن عفان کو ( رضی اللہ عنہم اجمعین)۔‘

حضرت علی کو خلفائے ثلاثہ سے افضل کہنے والے پر حکم: 
جو شخص مولی علی کو خلفاء ثلاثہ رضی اللہ تعالی عنہم سے افضل کہے گمراہ ہے اور اگر صدیق یا فاروق رضی اللہ تعالی عنہما کی خلافت کا انکار کرے تو کافر ہے۔
فتاویٰ رضویہ میں وجیز کے حوالے سے امام اہل سنت تحریر فرماتے ہیں:
"مـن انـكـر خلا فة ابي بكر رضى الله تعالى عنه فهو كافر فى الصحيح ومن انكر خلافة عمر رضى الله تعالى عنه فهو كافر في الاصح
یعنی خلافت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کا منکر کافر ہے، یہی صحیح ہے، اور خلافت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا منکر بھی کافر ہے، یہی صحیح تر ہے۔(فتاوی رضویہ، ج14، ص250/251،رضا فاؤنڈیشن)
خلاصہ کلام یہ کہ عید غدیر ماننا یہ رافضیوں کا طریقہ ہے، رافضی اپنے عقائد کفریہ کی بنا پر اسلام سے خارج ہیں۔ لہٰذا اہل سنت و جماعت کی بھولی بھالی عوام ان کے جھانسے میں آکر ان کے طریقہ کو نہ اپنائیں۔ ۱۸ ذوالحجہ کو اسلام کے تیسرے خلیفہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یومِ شہادت ہے، حضرت عثمان غنی کے نام کی محافل منعقد کریں اور اس میں حضرات شیخین کریمین، حضرت عثمان غنی، مولی علی اور اہل بیت کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی بارگاہ میں خراج عقیدت پیش کریں۔ یاد رکھیں ہر طرف ایمان کے لوٹیرے گھوم رہے ہیں اپنے ایمان کی حفاظت کرتے ہوئے نیک اعمال کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے ایمان و عقیدے کی حفاظت فرمائے۔ آمین