حضرت سیدنا امام غزالی علیہ الرحمہ - حیات و خدمات - توحید احمد خان رضوی | Islamic Article | Tehseeni Foundation
📞 WhatsApp: 7417998845
📍 Bareilly, Uttar Pradesh

حضرت سیدنا امام غزالی علیہ الرحمہ - حیات و خدمات

توحید احمد خان رضوی

حضرت سیدنا امام غزالی علیہ الرحمہ - حیات و خدمات
📅 27 Sep 2026 👁 81 Views

حضرت سیدنا امام غزالی علیہ الرحمہ - حیات و خدمات

امام محمد غزالی علیہ الرحمہ ان نابغہ روزگار شخصیات میں سے ہیں جن کی دینی و علمی خدمات سے آج بھی لوگ فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔
نام و نسب:
حضرت نام غزالی علیہ الرحمہ کا نام محمد ہے، آپ کی کنیت ابو حامد اور لقب حجۃ الاسلام ہے۔
پیدائش:
امام غزالی علیہ الرحمہ کی پیدائش ۴۵۰ ہجری مطابق ۱۰۵۸ عیسوی میں موجودہ ایران کے شہر طوس کے قصبہ غزال میں ہوئی۔
تعلیم و تربیت:
حضرت امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی نے ابتدائی  تعلیم اپنے شہر میں حاصل کی اور  فقہ کی کتابیں حضرت احمد بن محمد راذ کانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پڑھیں۔ پھر 20سال سے کم عمر میں جرجان میں امام ابو نصر اسماعیلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پھر طوس واپس تشریف لائے اور تین سال وہیں ٹھہرے رہے۔ اس کے بعد ۴۷۳ھ نیشاپور میں امام الحرمین امام جوینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں زانوئے تلمذ طے کیا اور ان سے اصولِ دین، اخلاقی مسائل، مناظرہ، منطق، حکمت اور فلسفہ، وغیرہ میں مہارتِ تامہ حاصل کی اور ان میں سے ہر فن میں بہترین اور مدلَّل کتب تصنیف فرمائیں۔ (ایک موقع پر امام الحرمین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یہ ارشاد فرمایا کہ ’’غزالی علم کے دریائے ذخّار  ہیں۔‘‘)۔
تدریس:
حضرت امام محمد غزالی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا دور فلسفہ اور عقلیت پسندی کا دور تھا۔ لوگ دین سے دُور ہوتے جارہے تھے۔اس صورتِ حال میں دین و مذہب کی خدمت کیلئے آپ نے درس و تدریس کا انتخاب فرمایا اور لوگوں کے عقائد و اعمال  کی اصلاح کا فریضہ انجام دیا۔ 
آپ کی علم شناسی علم دوستی , قابلیت و اہلیت کو دیکھتے ہوئےآپ کو اپنے استاد محترم کی زندگی میں ہی مدرسہ نظامیہ میں نائب مدرس مقرر کر دیا گیا تھا پھر کچھ عرصے کے بعد آپ مدرسہ کے مدرس اعلی کے عہدہ پر فائز ہو گئے۔
تصانیف:
حضرت سیدنا امام غزالی علیہ الرحمہ نے کئی علوم و فنون پر کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔ ان میں سے کچھ کے نام یہ ہیں:
۱۔تعلیقہ فی فروع المذھب ۲۔بیان القولین ۳۔الوجیز فی الفروع ۴۔الوسیط المحیط باقطار البسیط ۵۔البسیط فی فروع المذھب ۶۔خلاصہ الوسائل إلی علم المسائل فی فروع المذھب ۷۔اختصار المختصر ۸۔غایۃ الغور ۹۔مجموعہ فتاوٰی۔ ۱۰۔ تحسین المأخذ ۱۱۔مفصّل الخلاف فی اصول القیاس ۱۲۔مأخذ فی الخلافیات ۱۳۔شفاء العلیل ۱۴۔مستخل فی علم الجدل ۱۵۔المنخول ۱۶۔ المستصفی۔۱۷۔محک النظر ۱۹۔ میزان العمل۔۲۰۔مقاسد الفلاسفۃ۔۲۱۔ تھافۃ الفلاسفۃ ۲۲۔المنقذ من الضلال والمفصح عن الاحوال ۲۳۔ إلحام العوام عن علم الکلام ۲۴۔الإقتضاد فی الاعتقاد ۲۵۔المستظھری فی الرد علی الباطنیۃ ۲۶۔فضائح الاباحیۃ وحقیقۃ الروح ۲۷۔الرسالۃ القدسیہ ۲۸۔ تفرقۃ بین الاسلام والزندقۃ ۲۹۔مواھم الباطنیۃ  ۳۰۔القول الجمیل فی  رد علٰی من غیر الانجیل ۳۱۔القسطاس المستقیم۔۳۲۔منھاج العابدین الٰی جنّۃ ربِّ العالمین ۳۳۔کیمیائے سعادت ۳۷۔جواھر القرآن ۳۸۔جواھر القدس فی حقیقۃ النفس ۳۹۔مشکوٰۃ الانوار فی  لطائف الاخیار ۴۰۔مزاج السالکین  ۴۱۔نصیحۃ الملوک ۴۲۔ بدایۃ الھدایۃ ۴۳۔ایُّھا الولد۔ ۴۴۔المقصد الاسنٰی فی شرح اسماء الحسنٰی ۴۵۔اربعین ۴۶۔المرشد الامین ۴۷۔تلبیس ابلیس (علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی اسی نام سے ایک کتاب لکھی ہے) ۴۸۔قانون الرسول  ۴۹۔عجائب صنع اللہ ۵۰۔القربۃ الٰی اللہ ۵۱۔المجلس الغزالیۃ ۵۲۔تنبیہ الغافلین ۵۳۔الفرق بین الصالح وغیر الصالح  ۵۴۔مکاشفۃ القلوب ۵۵۔اسرار الحروف والکلمات۔

حکایت:
تفسیر روح البیان، ج ۵، ص ۳۷۴۔ ۳۷۵ میں ہے: حضرت سیدنا امام راغب اصفہانی قدس سرہ الربانی نے محاضرات میں ذکر فرمایا کہ صاحبِ حزب  البحر عارف باللہ حضرت سیدنا امام شاذلی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں:
"میں مسجد اقصیٰ میں محوِ آرام تھاکہ خواب میں دیکھا مسجد اقصیٰ کے باہر صحن کے درمیان میں ایک تکت بچھا ہوا ہے اور لوگوں کا ایک جمعِ عظیم  گروہ در گروہ داخل ہورہا ہے، میں نے پوچھا: ‘‘یہ جمعِ غفیر کن لوگوں کا ہے؟ مجھے بتایا گیا: ‘‘یہ انبیاء ورسل کرام علی نبینا وعلیھم الصلوٰۃ والسلام ہیں جو حضرت سیدنا حسین حلاج رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ظاہر ہونے والی ایک غلط بات پر ان کی سفارش کے لیے حضرت سیدنا محمد مصطفیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہیں۔’’ پھر میں نے تخت کی طرف دیکھا تو حضور  نبی کریم، رءوف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس پر جلوہ فرما ہیں اور دیگر انبیاء کرام جیسے حضرت سیدنا ابراہیم، حضرت سیدنا موسیٰ، حضرت سیدنا عیسیٰ اور حضرت سیدنا نوح علیٰ نبینا وعلیھم الصلوٰۃ والسلام زمین پر بیٹھے ہیں۔ میں ان کی زیارت کرنے لگا اور ان کا کلام سننے لگا۔
اسی دوران حضرت سیدنا موسی علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام  نےہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے گفتگو کرتے ہوئے عرض کی: ‘‘آپ کا فرمان ہے: عُلَمَاءُ اُمَّتِیْ کَأنْبِیَاءِ بَنِیْ إسْرَائِیْلَ یعنی میری امّت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں۔ ’’ لہذا  مجھے ان میں سے کوئی دکھائیں۔ تو اللہ کے پیارے حبیب لبیب  صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ایک سوال کیا اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دس جواب دیئے۔تو حضرت  سیدنا موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ جواب سوال کے مطابق ہونا چاہیے، سوال ایک کیا گیا اور تم نے دس جواب دیئے  تو حضرت سیدنا امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی نے عرض کی: ‘‘جب اللہ عزوجل نے آپ سے پوچھا تھا:‘‘وَمَا تِلْکَ بِیَمِنِکَ ترجمۂ کنزالایمان ‘‘تیرےہاتھ میں کیا ہے’’۔  تو اتنا عرض کردینا کافی تھا کہ ‘‘یہ میری چھڑی ہے’’۔ مگر آپ نے اس  کی کئی خوبیاں بیان فرمائیں۔’’ (یہ واقعہ فتاوی رضویہ ج ۲۸، ص ۱۴۱۰ اور النبراس شرح شرح العقائد ص ۲۴۷ پر بھی موجود ہے)
علماء کرام  فرماتے ہیں کہ گویا امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی، حضرت سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علی نبینا وعلیہ السلام کی بارگاہ میں عرض کر رہے  ہیں کہ ‘‘جب آپ کا ہم کلام، باری تعالیٰ تھا تو آپ نے وفورِ محبت اور غلبۂ شوق میں اپنے کلام کو طول دیا تا کہ زیادہ سے زیادہ ہم کلامی کا شرف حاصل ہوسکے اور اس وقت مجھے آپ سے ہم کلام ہونے کا موقع ملا ہے اور کلیم خدا عزوجل سے گفتگو   کا شرف حاصل ہوا ہے اس لیے میں نے اس شوق و محبت سے کلما کو طوالت دی ہے’’۔ (کوثر الخیرات، ص ۴۰)

وصال پُرملال:
حضرت امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی کا وصال پر ملال ۱۴ جمادی الاخریٰ ۵۰۵ھ طوس میں ہوا۔ بوقتِ وصال آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی عمر مبارک 55 سال تھی۔