کتاب "پیارے نبی کی پیاری سیرت": تعلیم سیرت کی موثر کوشش اور عصرِ حاضر کا تقاضا - مجلس تحسینی فاؤنڈیشن | Islamic Article | Tehseeni Foundation
📞 WhatsApp: 7417998845
📍 Bareilly, Uttar Pradesh

کتاب "پیارے نبی کی پیاری سیرت": تعلیم سیرت کی موثر کوشش اور عصرِ حاضر کا تقاضا

مجلس تحسینی فاؤنڈیشن

کتاب "پیارے نبی کی پیاری سیرت": تعلیم سیرت کی موثر کوشش اور عصرِ حاضر کا تقاضا
📅 29 Oct 2026 👁 24 Views

کتاب "پیارے نبی کی پیاری سیرت": تعلیم سیرت کی موثر کوشش اور عصرِ حاضر کا تقاضا

کتاب "پیارے نبی کی پیاری سیرت": تعلیم سیرت کی موثر کوشش اور عصرِ حاضر کا تقاضا

سیرتِ پاک کا موضوع ایک ایسا لامتناہی سمندر ہے جس میں ہر دور کے اہل علم اور عشاقِ رسول نے غوطہ زنی کی اور اپنے اپنے انداز میں علم و عرفان کے موتی بکھیرے۔ اسی پاکیزہ سلسلے کی ایک انتہائی خوبصورت، معتبر اور دلکش  کڑی توحید احمد خان رضوی  کی تصنیف "پیارے نبی کی پیاری سیرت" ہے، جسے علمی و ادبی مرکز بریلی شریف کے نامور ادارے تحسینی فاؤنڈیشن نے نہایت اہتمام کے ساتھ شائع کیا ہے۔  یہ کتاب اپنے نام کی طرح بے حد پیاری، عام فہم اور دلوں کی دنیا بدلنے والی تحریر ہے۔

مؤلف کا مختصر تعارف: ایک مخلص علمی شخصیت

اس کتاب کے مؤلف حضرت مولانا توحید احمد خان رضوی  صاحب ہیں، جو عصرِ حاضر میں دین کی سادہ اور مؤثر اشاعت کے لیے کوشاں ہیں۔ آپ کا تعلق بریلی شریف کے ایک معزز اور علمی ماحول سے ہے۔ آپ یادگار تحسین ملت جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم میں تدریسی فرائض انجام دیتے ہیں۔  آپ نے دین کی بنیادی اور اعلیٰ تعلیمات کو عوام الناس خصوصاً نئی نسل تک پہنچانے کے لیے قلم اٹھایا۔

توحید احمد خان صاحب کا اندازِ تحریر روایتی مصنفین سے ہٹ کر ہے۔ آپ کا اصل مقصد علم کی نمائش کرنا نہیں، بلکہ علم کو قابلِ عمل بنا کر پیش کرنا ہے۔ آپ کی تحریروں میں خلوص، سادگی اور عشقِ رسول ﷺ کی چاشنی نمایاں ہوتی ہے۔ "پیارے نبی کی پیاری سیرت" آپ کی ایک ایسی مایہ ناز کاوش ہے جس نے بہت کم عرصے میں عوامی و علمی حلقوں میں اپنی جڑیں مضبوط کر لیں۔

مؤلف موصوف کی اس کتاب کے علاوہ مزید کئی کتابیں عوام و خواص میں مقبولیت پا چکی ہیں۔ جن میں اسلام نالج (اردو، ہندی اور انگلش زبان میں)، حوا کی بیٹیاں اور ارتداد کا فتنہ، الاربعین فی فضائل خاتم النبیین، چالیس نبوی دعائیں، تذکرہ صدر العلماء وغیرہ ہیں۔

سادگی، سلاست اور اندازِ بیاں کی انفرادیت

اس کتاب کی سب سے بڑی اور نمایاں خوبی اس کی زبان کی سلاست اور روانی ہے۔ عام طور پر سیرت کی کتب میں ثقیل عربی الفاظ، پیچیدہ تاریخی اصطلاحات اور طویل فلسفیانہ بحثیں ہوتی ہیں، جنہیں عام قاری یا بچے آسانی سے نہیں سمجھ پاتے۔ لیکن مؤلف موصوف نے اس کتاب میں گنجلک اسلوب کے بجائے اتنی سادہ اور میٹھی زبان استعمال کی ہے ، الفاظ کا انتخاب دلنشین ہے اور جملوں کی بناوٹ قاری کو اکتاہٹ کا شکار نہیں ہونے دیتی۔

تاریخی تسلسل اور اخلاقی و عملی تربیت کا حسین امتزاج

کتاب کا خاکہ اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ با سعادت، بچپن کے پاکیزہ شب و روز، جوانی کی پاکدامنی، اعلانِ نبوت، مکہ مکرمہ کی سختیاں، ہجرتِ مدینہ اور پھر مدنی زندگی کے عروج سے لے کر وصالِ مبارک تک کے تمام اہم ترین تاریخی واقعات کا احاطہ کرتی ہے۔ بارھویں شریف کی نسبت سے اس کتاب میں کل ۱۲ ابواب ہیں۔

اردو اور ہندی رسم الخط: افادیت کا دائرہ وسیع

تحسینی فاؤنڈیشن کا یہ اقدام واقعی ستائش کے قابل ہے کہ انہوں نے اس کتاب کو صرف اردو جاننے والوں تک محدود نہیں رکھا۔ کتاب کا ہندی ایڈیشن بھی یکساں خوبصورتی کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ موجودہ دور میں ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو اردو بولتی اور سمجھتی ہے لیکن ہندی رسم الخط پڑھتی ہے۔ یہ کتاب ان دونوں زبانوں میں دستیاب ہو کر برصغیر کے لاکھوں گھروں، اسکولوں اور مدارس کے لیے ایک بنیادی نصاب (Primer) کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

​​​مجموعی طور پر، "پیارے نبی کی پیاری سیرت" محض ایک کتاب نہیں، بلکہ ایک تحریک ہے جو ہماری نئی نسل کو اپنے دین اور اپنے پیارے آقا ﷺ کی ذاتِ گرامی سے جوڑنے کا کام انجام دے رہی ہے۔ یہ کتاب ہر اس مسلمان کے گھر میں ہونی چاہیے جو اپنے بچوں کی صحیح اسلامی خطوط پر تربیت کرنا چاہتا ہے اور اپنے دل کو عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی روشنی سے منور کرنے کا خواہشمند ہے۔ توحید احمد خان رضوی تحسینی صاحب کی یہ مخلصانہ کوشش یقیناً بارگاہِ رسالت ﷺ میں قبولیت کے لائق ہے۔