غیروں کی نقالی -- ایک لمحہ فکریہ
ہر انسان پر اللہ رب العزت کے بے شمار احسانات ہیں اور قوم مسلم پر سب سے بڑا احسان کہ اس نے ایمان کی دولت عطا فرمائی اور ہمیں اپنے پیارے نبی صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی امت اجابت میں رکھا جن کی زندگی مکمل نمونہ عمل ہے، جن کی اطاعت و فرمانبرداری کو اللہ رب العزت نے اپنی فرمانبراری فرمایا۔ لیکن اگر ہم جائزہ لیں تو ہمارے اندر سب بری خرابی اور تباہی کا باعث یہ بات سامنے آئے گی کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو چھوڑ کر ترقی کرنا چاہتے ہیں جو کہ بہت بڑا لحمہ فکریہ ہے۔
ہم نے دنیاوی نام و نمود اور مشرقی تہذیب کی خاطر اپنا معیار زندگی بدل کر رکھ دیا ہے، آج ہم میں کا چھوٹا بڑھا، مرد و عورت ہر کوئی نام و نمود اور غیروں کی تقلید کے بوجھ میں دبا ہوا ہے۔ جبکہ قوم مسلم کے پاس نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زندگی کا نقش موجود ہے، صحابہ کرام و ائمہ عظام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا طرز زندگی ان کے سامنے ہے اور مقربان خدائے پاک اولیاء اللہ کی زندگی کا عملی نمونہ ان کو عمل کی دعوت دے رہا ہے لیکن قوم مسلم ہے کہ اسے غیروں کی تقلید کا طوق گلے میں ڈالنے کا ایسا شوق چڑھا ہے کہ اس طوق کے بوجھ سے نفسیاتی مرض کا شکار بھی ہو رہے ہیں لیکن پھر بھی پلٹ پر اسلامی زندگی کی طرف آنے میں انہیں شرم آرہی ہے۔
آپ غور کریں کہ ناگہانی اموات کی شرح کس حد تک بڑھتی جا رہی ہے، نہ ختم ہونے والے حوادثات کی باڑ سی آئی ہوئی ہے لیکن قوم مسلم عبرت حاصل کرنے کو تیار نہیں ہے۔
جس قوم کو نبی اکرم کی زندگی کو اپنے لیے نمونہ بناکر اپنی دنیا اور آخرت سنوارنا چاہیے تھی آج وہ قوم غیروں کی نقل کرنے میں فخر محسوس کر رہی ہے۔ اور اس نقل کرنے میں اس کے حرام و حلال کا بھی لحاظ نہیں رہا۔ خدارا اپنے اوپر رحم کھاؤ۔
آج قوم نے نمود و نمائش کا بوجھ اس قدر لاد رکھا ہے کہ سے فرائض و واجبات کی ادائیگی کی بھی فرصت نہیں ہے اور کوئی انہیں اس طرف دعوت دے تو انہیں عدیم الفرصتی کا بہانہ بناتے ہوئے ذرا بھی شرم محسوس نہیں ہوتی۔ آج انسان کے پاس تقریبات میں شرکت کا وقت ہے، سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے، ریلس دیکھنے، فالتو گپشپ کرنے کا وقت ہے، سیر و تفریح کے نام پر ہے حیائی کا مظاہرہ کرنے کا تو وقت ہےامن اگر اسی انسان سے نماز و اذکار، قرآن کی تلاوت، دینی مسائل کی تعلیم کو کہا جاۓ تو بلا جھجک کہہ دیتا ہے کہ وقت نہیں مل پا رہا ہے بہت بزی شیڈیول چل رہا ہے۔
اب ذرا بتائیں کہ حشر کے دن آپ کا یہ جواب کام آجائیگا کہ ہمارے پاس وقت نہیں تھا؟۔ نہیں ہرگز نہیں آئے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ۔ (سورہ زمر، آیت ۵۶)
کہیں کوئی جان یہ نہ کہے کہ ہائے افسوس ان تقصیروں پر جو میں نے اللہ کے بارے میں کیں اور بیشک میں ہنسی بنایا کرتا تھا۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خبردار کر دیا کہ اے لوگو! اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو، تم وہ کام کرو جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآنِ پاک میں تمہیں حکم دیا ہے اور جس کام سے منع کیا ہے اس سے باز آ جاؤ۔پھر ایسا نہ ہوکہ عذاب دیکھنے کے بعد کوئی جان یہ کہے کہ ہائے افسوس ان کوتاہیوں پر جو میں نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں کیں کہ اس کی فرمانبرداری نہ کرسکااور اس کے حق کو نہ پہچانا اور اس کی رضا حاصل کرنے کی فکر نہ کی اور بیشک میں تو اللہ تعالیٰ کے دین کا اور ا س کی کتاب کا مذاق اڑانے والوں میں سے تھا۔
اب ذرا غور کریں کہ قیامت کے دن ہمارا یہ کہنا کچھ کام نہیں آئے گا کہ ہمیں فرصت نہیں ملی، بلکہ یہ صرف نفس کا دھوکہ ہے۔
حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد (والی زندگی) کے لیے تیاری کرے اور بے وقوف وہ ہے جو خود کو خواہشات کے پیچھے لگا لے اور (پھر بھی) اللہ تعالیٰ سے امید رکھے۔
اگر ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیاب ہونا ہے تو ہمیں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا ہوگی ورنہ ہمیں دنیا میں بھی خسارہ اٹھانا پڑےگا اور آخرت کی بربادی بھی ہمارا مقدر بن جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دنیا و آخرت کی کامیابی عطا فرمائے اور غیروں کی نقالی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین علیہ الصلٰوۃ والتسلیم۔