حسن اخلاق کی فضیلت - توحید احمد خان رضوی | Islamic Article | Tehseeni Foundation
📞 WhatsApp: 7417998845
📍 Bareilly, Uttar Pradesh

حسن اخلاق کی فضیلت

توحید احمد خان رضوی

حسن اخلاق کی فضیلت
📅 03 Jun 2026 👁 100 Views

حسن اخلاق کی فضیلت

لاق اور اچھا کردار انسان کی نہایت عمدہ اور بہترین صفات میں سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول ﷺ کو اخلاقِ کریمہ کا بہت بلند مقام عطا فرمایا تھا۔ خود اللہ کے حبیب ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:

"میں دنیا والوں کو بہترین اخلاق کی تعلیم دینے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔"

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو شخص کسی خوبی کی تعلیم دے اور اس کی نصیحت کرے، سب سے پہلے وہ خوبی خود اس کے اندر موجود ہونی چاہیے۔

اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے رسول ﷺ کی سنت پر عمل کرنے والے لوگ اخلاق کی عظمت اور اس کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں۔ ہمارے بزرگوں کے حسنِ اخلاق ہی کی بدولت کفر کے گھپ اندھیروں میں ایمان کے چراغ روشن ہوئے ہیں۔ حسنِ اخلاق ہی کی برکت سے جانی دشمن، جان نثار بن گئے۔ اسلام دنیا میں اپنی اسی خوبی کے ذریعے پھیلا ہے، تلوار کے زور سے نہیں۔ تلوار کے زور پر قومیں اپنی حکومتیں تو قائم کر سکتی ہیں، لیکن اپنا دین نہیں پھیلا سکتیں۔ دین کی تبلیغ کرنے والے صوفیائے کرام، اولیائے عظام اور علمائے کرام کے پاس نہ کوئی فوج تھی اور نہ ہی کوئی ہتھیار، بلکہ ان کے پاس حسنِ اخلاق اور اچھے کردار کا ایسا بے مثال ہتھیار تھا کہ جس کے ذریعہ بغیر کسی ضرب کے ہی لوگ محبت کی زنجیروں میں جکڑے جاتے تھے۔

حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب بوستان میں ایک واقعہ بیان فرمایا ہے کہ ایک فقیر مدینہ شریف کی ایک گلی میں بیٹھا ہوا تھا۔ اتفاق سے امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا۔ بے خیالی میں آپ کا قدم فقیر کے پاؤں پر پڑ گیا۔ وہ ناراض ہو کر چلایا:

"کیا تو اندھا ہے؟"

آپ نے بڑی نرمی کے ساتھ جواب دیا:

"بھائی! اندھا تو نہیں ہوں، لیکن مجھ سے غلطی ضرور ہو گئی ہے، مہربانی فرما کر مجھے معاف کر دو۔"

اللہ اکبر! یہی وہ مبارک ہستیاں ہیں جن کی زندگیاں ہمارے لیے نمونہ ہیں اور جن کی غلامی پر ہمیں فخر ہے۔ غور کیجیے! پوری اسلامی دنیا کے سربراہ ہونے کے باوجود ایک فقیر کی سخت کلامی پر ایسا جواب، ایسا برتاؤ اور ایسا اظہارِ افسوس! آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر انسان کے اندر نو خوبیاں ہوں اور ایک عیب یعنی بد اخلاقی ہو، تو یہی ایک عیب تمام خوبیوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔

حضرت شیخ عبداللہ خیّاط رحمۃ اللہ علیہ گزر بسر کے لیے سلائی کا کام کیا کرتے تھے۔ آپ کا ایک مجوسی گاہک بھی تھا جو ہمیشہ آپ ہی سے کپڑے سلوایا کرتا تھا اور سلائی کی اجرت میں کھوٹا سکہ دے دیا کرتا تھا۔ آپ ہمیشہ وہ کھوٹا سکہ قبول فرما لیتے تھے اور کبھی اس سے شکایت نہ کرتے تھے۔

اتفاق سے ایک مرتبہ آپ دکان پر موجود نہ تھے۔ مجوسی اپنے کپڑے لینے آیا اور حسبِ عادت کھوٹا سکہ آپ کے شاگرد کو دیا تو انہوں نے لینے سے انکار کر دیا۔ جب آپ تشریف لائے تو شاگرد نے سارا واقعہ بیان کیا۔ آپ نے فرمایا:

"تم نے وہ سکہ لے کیوں نہ لیا؟ کئی سالوں سے وہ مجھے ہمیشہ کھوٹا سکہ ہی دیتا آ رہا ہے۔ میں جان بوجھ کر اسے اس لیے قبول کر لیتا ہوں تاکہ وہ کسی دوسرے مسلمان بھائی کو نہ دے۔"

بزرگوں کے اخلاق ملاحظہ فرمائیے! اپنے دینی بھائی کا خیال کرتے ہوئے خود نقصان برداشت کر لیتے ہیں، لیکن اپنی قوم کو نقصان میں مبتلا نہیں دیکھ سکتے۔

آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم کھوٹا سکہ، نقلی نوٹ یا عیب دار سامان کا عیب چھپا کر کسی دوسرے کو تھما دینے کو اپنی ذہانت اور مہارت سمجھتے ہیں، حالانکہ شریعت کا حکم یہ ہے کہ اگر سامان میں کوئی خرابی یا عیب ہو تو خریدار کو اس سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ یہی ایمان کا تقاضا ہے، کیونکہ مومن کبھی کسی کو دھوکا نہیں دیتا۔