حالیہ زلزلے ہمارے لئے وارننگ - توحید احمد خان رضوی | Islamic Article | Tehseeni Foundation
📞 WhatsApp: 7417998845
📍 Bareilly, Uttar Pradesh

حالیہ زلزلے ہمارے لئے وارننگ

توحید احمد خان رضوی

حالیہ زلزلے ہمارے لئے وارننگ
📅 07 Oct 2026 👁 63 Views

حالیہ زلزلے ہمارے لئے وارننگ

زلزلہ کا نام آتے ہی انسان کے ذہن میں ایک ہیبت پیدا ہو جاتی ہے۔ زلزلوں سے متعلق سائنسی اعتبار سے زلزلے کا جو سبب بتایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ زمین کے اندر جس جگہ آتشی گیس زیادہ مقدار میں جمع ہو جاتی ہے وہ جگہ گیس کی شدت سے پھڑ پھڑاتی ہے اور اس وقت تک پھڑ پھڑاتی رہتی ہے جب تک کہ گیس زمین کے دوسرے حصوں میں ادھر ادھر حسب ضرورت نہ بکھر جائے، اس پھڑ پھڑاہٹ کی وجہ سے زمین کے حصوں میں زلزلہ محسوس ہوتا ہے۔

 یہ تھازلزلے آنے کا سائنسی نظریہ۔ اب نظر ڈالتے ہیں کہ زلزلے آنے کا سبب اسلامی نقطہ نظر سے کیا ہے ؟۔ 

اسلامی نقطہ نظر سے زلزلے آنے کا جو بنیادی سبب ہے وہ کثرت گناہ ہے۔ جب روئے زمین پر گناہوں کی زیادتی ہونے لگتی ہے تو اللہ تبارک و تعالی غافل بندوں کو متنبہ کرنے کے لئے فرشتوں کو زمین میں حرکت دینے کا حکم دیتا ہے۔

چنانچہ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی فرماتے ہیں جب روئے زمین میں کثرت سے گناہ ہونے لگتے ہیں تو اللہ تبارک و تعالیٰ غافل بندوں کو آگاہ کرنے کے لئے فرشتوں کو زمین میں حرکت دینے کا حکم دیتا ہے، تو فرشتے تیز اور طاقتور ہوا زمین میں داخل کر دیتے ہیں، جس کی حرکت سے زمین ہلنے لگتی ہے اس کو زلزلہ کہتے ہیں“ ( فتاوی عزیزیہ )

 اعلی حضرت فاضل بریلوی زلزله کا سبب بتاتے ہوئے رقم طراز ہیں ”اصل سبب گناہ ہے، پیدا یوں ہوتا ہے کہ ایک پہاڑ جس کا نام قاف ہے، تمام زمین کو محیط ہے اور اس کے ریشے زمین کے اندر سب جگہ پھیلے ہوئے ہیں جیسے بڑے درخت کی جڑیں دور دور تک اندر پھیلتی ہیں، جس زمین میں زلزلہ کا حکم ہوتا ہے وہ پہاڑ اپنے اس جگہ کے ریشے کو جنبش دیتا ہے پھر زمین ہلنے لگتی ہے (فتاوی رضویہ )

 یہ جان لینے کے بعد کہ زلزلہ آنے کا اصل سبب کثرت گناہ اور غافل بندوں کو آگاہ کرنا ہے تو اب ہم اپنے معاشرہ کا بغور جائزہ لیں تو یہ بات بخوبی معلوم ہو جائے گی کہ ہم نے زلزلے کو خود ہی دعوت دی ہے۔

آج وہ کون سا گناہ ہے جو ہمارے معاشرہ میں نہیں پایا جا رہا ہے؟ ظلم ، خیانت، جھوٹ، بے ایمانی، لوٹ اور ان جیسے کثیر گناہ ہیں جو ہمارے معاشرہ کو کھوکھلا کر رہے ہیں اور خدائی قہر کو دعوت دے رہے ہیں۔ کاش کہ ہم غور کریں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد جگہ آخرت سے غافل انسانوں کو زلزلے کی وحشت ناکیوں اور تباہیوں کے ذریعہ تاکید کی ہے کہ اے دنیا کی رنگینیوں میں بدمست انسان! آج تو بڑی بے باکی سے زمین کے دامن کو گناہوں کے ذریعہ داغدار کر رہا ہے اور اس خیال میں ہے کہ یہ درخت، پہاڑ، پتھر اور زمین کے ذرات سب بہرے، گونگے اور تیرے کالے کرتوت سے بے خبر ہیں ، یہ تیری نادانی ہے۔ جب قیامت آئے گی تو یہی زمین کے درخت، پہاڑ، پتھر اور چٹانیں تیرے سارے اعمال کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیں گے اور تو اس وقت کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوگا لیکن افسوس تیرا اس وقت کا دیکھنا کارآمد نہ ہوگا۔ 

سورہ زلزال میں ارشاد باری تعالی ہے ترجمہ: جب تھر تھرانے لگے گی زمین شدت سے اور باہر پھینک دے گی زمین اپنے بوجھوں کو اور انسان ( حیران ہو کر ) کہے گا اسے کیا ہوا گیا، اس روز بیان کر دے گی اپنے سارے حالات۔ خلاصہ کلام یہ کہ حالیہ زلزلہ ہمارے لئے ایک وارننگ ہے کہ ہم غفلت کی نیند سے بیدار ہوں، گناہوں سے توبہ کریں اور ایک صالح معاشرہ کی تشکیل کریں۔