عالمی داعی علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ - حیات و خدمات - توحید احمد خان رضوی | Islamic Article | Tehseeni Foundation
📞 WhatsApp: 7417998845
📍 Bareilly, Uttar Pradesh

عالمی داعی علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ - حیات و خدمات

توحید احمد خان رضوی

عالمی داعی علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ - حیات و خدمات
📅 14 Jul 2026 👁 52 Views

عالمی داعی علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ - حیات و خدمات

حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ برصغیر کی ان نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی تبلیغ اسلام میں گزار دی۔ آپ کا قلم حق گوئی کی علامت، آپ کی زبان عشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ترجمان، آپ کی فکر امت کی رہنما اور آپ کی شخصیت اخلاص، تقویٰ اور علم کا روشن نمونہ تھی۔

نام و نسب اور ولادت:
رئیس القلم حضرت ارشد القادری علیہ الرحمہ کا اصلی نام غلام رشید تھا لیکن علمی اور ادبی دنیا میں ارشد القادری اس طرح مشہور ہوا کہ وہ آپ کی شناخت بن گیا۔ آپکے والد کا نام عبد اللطیف رشیدی تھا، یہ خاندان علم و تقوی میں ایک امتیازی شان رکھتا تھا۔ سید پور ضلع بلیا اتر پردیش کے اسی معزز گھرانے میں 5 مارچ 1925 عیسوی کو علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کی پیدائش ہوئی۔

تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم گھر پر والد ماجد سے حاصل کی۔ اس کے بعد جامعہ اشرفیہ مبارکپور تشریف لے آئے، یہاں پر مسلسل 8 سال تک عظیم محدث و مفکر حافظ ملت علامہ عبد العزیز مبارکپوری علیہ الرحمہ (بانی الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور) کی سرپرستی میں رہ کر اکتسابِ علم و فیض کیا۔ 1944ء میں سندِ فراغت حاصل کی اور ممتاز طلبہ میں شمار کیے گئے۔

بیعت و طریقت:
خلیفہ اعلی حضرت صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے بیعت کی۔ اجازت و خلافت خلیفہ اعلیٰ حضرت قطب مدینہ مولانا ضیاء الدین احمد مہاجر مدنی رحمۃ اللہ علیہ، شہزادہ اعلی حضرت حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ اور سرکار پٹنہ حضرت فدا حسین سے ملی۔

تدریسی و دعوتی خدمات:
فراغت کے بعد آپ تدریسی خدمات انجام دینے کے لیے ناگپور تشریف لے گئے، کچھ عرصہ تک آپ نے وہاں تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد ۱۹۵۲ عیسوی میں آپ جمیشدپور تشریف لے آئے اور اپنی دینی، دعوتی اور تنظیمی سرگرمیوں کا مرکز جمشیدپور کو بنا لیا۔ یہاں آپ نے نصف صدی سے زائد تشنگان علوم دینیہ کو سیراب کیا۔ آپ نے طلباء کو صرف علوم دینیہ ہی نہیں سکھایے بلکہ ان کو دعوتی جرات، مسلکی غیرت اور فکری استقامت بھی عطا فرمائی۔

تصنیفی خدمات:
رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ تدریس کے ساتھ تصنیف کے میدان کے بھی شہ سوار تھے، آپ نے اپنی تصنیفات کے ذریعہ ایوان باطل میں ایسا زلزلہ پیدا کیا کہ وہ اس کی تاب نہ لا سکے۔  آپ کی تحریریں فکر کی بالیدگی اور عقیدے کی پختگی پیدا کرتی ہیں۔ آپ نے تین درجن سے زائد تصانیف چھوڑی ہیں۔ جن میں کچھ مشہور کتابیں یہ ہیں۔ زلزلہ، زیرو زبر، تعزیرات قلم، نقش کربلا، لالہ زار، دعوتِ انصاف، شخصیات، زلف و زنجیر، افکار و خیالات، صدائے درویش، شعور و آگہی، انوار احمدی، تجلیاتِ رضا، کمالاتِ مصطفیٰ ﷺ، تبلیغی جماعت، اور جماعت اسلامی۔

مناظرے کے ذریعہ احقاق حق اور ابطال باطل:
  قائد اہل سنت حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ ایک جید عالم دین کے ساتھ مناظر اہل سنت بھی تھے حق کی بالا دستی کے لئے باطل فرقوں سے آپ نے ایک درجن سے زائد مناظرے کئے اور مخالف مناظر کو دندان شکن جواب دیا۔ آپ کو عقلی دلائل و براہین اور قرآن و احادیث و فقہی جزئیات کے ذریعہ اپنی بات منوانے پر بڑی قدرت حاصل تھی یہی وجہ ہے کہ آپ اپنے دور میں اہل سنت و جماعت میں صف اول کے مناظر شمار کئے جاتے تھے زمانہ طالب علمی میں فن مناظرہ سے دلچسپی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں آپ کہتے ہیں مجھے ویسے سب سے زیادہ جس فن میں دلچسپی تھی وہ ردہابیہ تھا۔“۔آپ نے متعدد اختلافی موضوعات پر کئی مناظرے کئے۔ ان میں سے چند مناظروں کا اجمالی تذکرہ یہ ہے۔ 
پہلا مناظرہ: مولوی عبد اللطیف نعمانی کے خلاف کیا یہ مناظرہ کٹک میں مولوی اشرف علی تھانوی کی کتاب حفظ الایمان کی کفری عبارتوں پر ہوا۔اہل سنت کی طرف سے صدر جلسہ حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ اور مناظر کی حیثیت سے علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ مقرر کیے گئے جب کہ دیوبندیوں کی طرف سے صدر جلسہ مولوی اسمعیل کٹکی اور مناظر کی حیثیت سے مولانا منظور نعمانی کے استاذ مولوی عبد اللطیف نعمانی تھے اس مناظرہ میں آپ نے ناقابل انکار دلائل و براہین سے مد مقابل کو اس طرح لا جواب کر دیا اسے اقرار کرنا پڑا کہ حفظ الایمان کی عبارت میں لفظ ایسا تشبیہ کے لئے جو موجب اہانت و کفر ہے۔ 
دوسرا مناظرہ: یہ مناظرہ قیام و سلام کے موضوع پر بتوا بازار، ضلع چھیرا بہار میں ہو,ا اہل سنت و جماعت کی طرف سے صدارت کے فرائض امین شریعت اول ادارہ شرعیہ علامہ مفتی رفاقت حسین رحمتہ اللہ علیہ نے انجام دیا اور مناظر کی حیثیت سے علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ مقرر کئے گئے جب کہ دیوبندیوں کے طرف سے مولوی نور محمد ٹانڈوی نے کی اور مناظر مولوی عبد السلام لکھنوی مقرر ہوئے۔ یہ مناظرہ ایک دن میں اہل سنت کی فتح عظیم پر ختم ہو گیا۔ 
تیسرا مناظرہ:  یہ مناظرہ رات کے وقت ضلع امراوتی مہاراشٹر کے ایک قلعہ کے اندر ہوا وہاں کی ڈی ایس پی صاحب دونوں فریق کی طرف سے مناظرہ کے کنٹرولر تھے مناظرہ کا موضوع تبلیغی جماعت تھا اور مناظر کی حیثیت سے قائد اہل سنت تھے جب کہ دیو بندیوں کی طرف سے ارشاد احمد مبلغ دار العلوم دیو بند مناظر تھے۔ 
چوتھا مناظرہ:  یہ مناظرہ بولیا مندسور راجستھان میں حفظ الایمان کی کفریہ عبارت پر ہوا تھا اہل سنت کی طرف سے صدارت کے فرائض مجاہد ملت علامہ حبیب الرحمن نے انجام دیے اور مناظر کی حیثیت سے سے قائد اہل سنت کھڑے ہوئے جب کہ دیو بندیوں کی  طرف صد ر جلسہ مولوی نور محمد نانڈوی اور مناظر کی حیثیت سے مولوی ارشاد دیوبندی تھے۔ 
علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کے حاضر جوابی کا اندازہ اس مناظرہ میں روز روشن کی طرح عیاں ہوا جب مولوی ارشاد نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ میں ارشاد ہوں اور مجھ سے مناظرہ کرنا آسان نہیں ہے اس کے جواب میں قائد اہل سنت علیہ الرحمہ نے فرمایا میں ارشد ہوں اور اظہار فضیلت کے لئے مجھ سے بڑا کوئی لفظ فن صرف میں نہیں ہے۔ اس کے جواب میں مولوی ارشاد نے کہا میں مصدر ہوں اگر میں نہ ہوتا تو آپ کا وجود ہی نہیں ہوتا۔ اب قائد اہل سنت نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ شاید آپ کو یاد ہوگا کہ المصدر کا لمخنث لا یذکر ولایونث، پھر لگے ہاتھوں ایک شعر بھی پڑھ دیا۔ 
مذکر کے لئے he ہے مونث کے لئے she ہے
میرے حضرت مخنث ہیں  نہ ہیوں نہ شیوں ہے
اس شعر سے سارا مجمع باغ و بہار بن گیا اور مولوی ارشاد احمد پر ایسی خجالت طاری ہوئی جس کا اثر مناظرہ کے آخر تک باقی رہا۔
پانچواں مناظرہ: یہ مناظرہ جامع مسجد یا ضلع دھنباد میں ہوا اس مناظرہ کی خصوصیت یہ تھی کہ اب تک ہونے والے مناظروں میں علمائے دیو بند سے مطالبہ ہوتا تھا کہ وہ اپنے اکابرین کا مسلمان ہونا ثابت کریں لیکن اس مناظرے میں شرائط طے کرتے ہوئے دیوبندی مولویوں نے اصرار کیا کہ بریلوی مناظر بھی اپنے اکابر کا مسلمان ہونا ثابت کریں مجھے اس میں اہلسنت والجماعت کی طرف سے قیادت کے فرائض مجاہد ملت علامہ حبیب الرحمن علیہ الرحمہ نے انجام دئے اور مناظر کی حیثیت سے قائد اہل سنت تھے جب کہ دیوبندیوں کی طرف سے مولوی ارشاد احمد صدارت کر رہے تھے اور مولوی طاہر گیاوی مناظر کی حیثیت سے موجود تھے جب مناظرہ شروع ہوا تو بالآخر اہل سنت والجماعت کو رات میں فتح ہوئی۔ 
چھٹا مناظرہ:  یہ مناظرہ کٹک اڑیسہ میں ہوا اس مناظرے کی خصوصیت یہ تھی کہ دیوبندیوں کے مناظر تین بار تبدیل کئے گئے جبکہ ہر راؤنڈ میں اہلسنت والجماعت کے مناظر کی حیثیت سے ڈٹے رہے، اور اہل سنت والجماعت کی طرف سے صدارت کے فرائض مجاہد ملت علیہ الرحمۃ انجام دیے۔

تبلیغی اسفار:
رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ نے اشاعت سنیت، رد باطل اور قوم کے اندر تعلیمی بیداری پیدا کرنے کی غرض سے ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ملک بھی کوئی دورے کیے۔ آپ نے اپنے اسفار کے ذریعہ متعدد علاقوں میں دعوتی فریضہ انجام دیتے ہوئے قوم کے اندر تعلیمی بیداری پیدا کی۔ آپ جہاں گئے وہاں کے لوگوں کو ایک فکر دی اور زندگی کو کامیاب اور با مقصد بنانے کی ترغیب دلائی۔

تعلیمی اور دعوتی اداروں کا قیام:
حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ صرف افراد ساز شخصیت کے مالک نہیں تھے بلکہ آپ ادارہ ساز شخصیت کے حامل تھے۔  علامہ ارشد القادری صاحب اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ اس سوئی ہوئی قوم کو غفلت کو نیند سے بیدار کرنے اور ملی شیرازہ بندی کے لئے تنظیم و تحریک کی بے حد ضرورت ہے۔ اسی کے پیش نظر آپ نے اندرون ملک اور بیرون ملک کئی اداروں کی بنیادیں رکھیں جن میں سر فہرست یہ ہیں:
مدرسہ فیض العلوم – جمشیدپور۔
جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء – دہلی۔
ادارہ شرعیہ – پٹنہ۔
جامعہ مدینۃ الاسلام – ہالینڈ۔
دار العلوم علیمیہ – سورینام (جنوبی امریکا)۔
دعوتِ اسلامی۔
ورلڈ اسلامک مشن – لندن۔
اس کے علاوہ اور بھی کئی ادارے ہیں جن کے قیام کا سہرا آپ ہی کے سر بندھا ہے۔
اسی کے ساتھ ساتھ، آپ نے ملک کے مختلف علاقوں میں کئی مساجد کی تعمیر بھی کروائی جو آج بھی آپ کی دینی حمیت اور اخلاص کی گواہی دے رہی ہیں۔

وصال:
علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 16 صفر المظفر1423ھ 29 اپریل 2002ء کو ہوا۔آپ کی آخری آرامگاہ جامعہ فیض العلوم (جمشیدپور) کے احاطے میں ہے۔ اللہ رب العزت آپ کے مرقد پر رحمت و نور کی بارش فرمائے۔آمین