وعدہ خلافی پر قرآنی وعیدیں
مذہب اسلام نے وعدہ کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے اور وعدہ خلافی کی مذمت فرمائی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان عالیشان ہے
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ۬ؕ۔ (سورہ مائدہ، آیت ۱)
اے ایمان والو اپنے قول پورے کرو۔
اس آیت میں اللہ رب العزت نے ایمان والوں کو اپنے قول اپنے وعدے پورے کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے بر خلاف جو وعدے کو پورا نہیں کرتے اور وعدہ خلافی کرتے ہیں، قرآن کریم نے ان کی مذمت بیان کی گئی ہے۔
وعدہ خلافی کرنے والے خسارے میں ہیں:
اللّٰہ تعالٰی قرآن کریم میں فرماتا ہے:
الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۔ (سورہ بقرۃ، آیت27)
ترجَمۂ کنزُالایمان: وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں اُس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی نقصان میں ہیں۔
اس آیت میں وعدہ توڑنے والوں کو خسارہ اٹھانے والوں میں شمار کیا ہے اور یہ خسارہ مال و دولت کا نہیں بلکہ ایمان و آخرت کا خسارہ ہے۔
بد عہد پر اللہ کی لعنت ہے:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ۔(سورہ رعد، آیت25)
ترجَمۂ کنزُالایمان: اور وہ جو اللہ کا عہد اسے پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کے لیے لعنت ہی ہے اور اُن کے لیے برا گھر ہے۔
اس آیت میں بد عہدوں کو فسادی کہا گیا ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جو لوگ عہد توڑتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور آخرت میں برا ٹھکانہ ہے۔ ذرا غور کریں کہ جہاں ہمیشہ رہنا ہیں وہاں کا ٹھکانہ برا بن جائے تو پھر ہمارا کیا بنےگا؟ یہ بہت سخت وعید ہے ہمیں اس سے عبرت حاصل کرتے ہوئے وعدوں کی پابندی کرنا چاہیے۔
بد عہدی دل میں نفاق پیدا کرتی ہے:
اللہ جل شانہ کا فرمان عالیشان ہے:
فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ۔ ۔(سورہ توبۃ، آیت77)
ترجَمہ: تو اس کے پیچھے اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اس دن تک کہ اس سے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انہوں نے اللہ سے وعدہ جھوٹا کیا اور بدلہ اس کا کہ جھوٹ بولتے تھے۔
اس آیت میں بتایا گیا کہ جو شخص بار بار وعدہ خلافی کرتا ہے اس کے دل میں نفاق پیدا ہو جاتا ہے۔ نفاق ایک بہت بری بیماری ہے ایمان کے لئے۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ وعدہ خلافی سے دور رہیں تاکہ ایمان کی حفاظت ہو۔
بد عہد جانوروں سے بد تر ہے:
فرمان باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ(۵۵) اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ۔ ۔ (سورہ انفال، آیت 55 و 56)
ترجَمہ: بےشک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور ایمان نہیں لاتےوہ جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا پھر ہر بار اپنا عہد توڑ دیتے ہیں اور ڈرتے نہیں۔
اس آیت میں بنو قریظہ کے یہودیوں کو سب جانوروں سے بد تر بتایا گیا ہے جنہوں نے جنگ کے موقع پر عہد شکنی کی اور کفار قریش کی مدد کی۔
اس آیت کے تحت صدر الافاضل حضرت علامہ نعیم الدین صاحب مراد آبادی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
ویسے تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لانے والے سب جانوروں سے بدتر ہیں مگر باوجود کُفر کے عہد شکن بھی ہوں تو اور بھی خراب۔ عہد شکنی ہر عاقل کے نزدیک شرمناک جرم ہے اور عہد شکنی کرنے والا سب کے نزدیک بے اعتبار ہوجاتا ہے ۔ جب اس کی بے غیرتی اس درجہ پہنچ گئی تو یقینا وہ جانوروں سے بدتر ہیں ۔
(خزائن العرفان، تحت ھذہ الايه)
ان قرآنی آیات سے یہ بخوبی واضح ہو گیا کہ بد عہدی کتنی بری صفت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سوچ سمجھ کر وعدہ کریں اور جب وعدہ کریں تو اسے ہر حال میں پورا کریں۔ چاہیں وہ وعدہ کاروبار سے متعلق ہو يا گھریلو ذمہ داریوں سے متعلق ہے کسی دینی امور سے۔ ہرجائز وعدے کو پورا کرنے میں ہی بھلائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو وعدہ پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور وعدہ خلافی سے محفوظ فرمائے۔ آمین