موذن رسول حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ - توحید احمد خان رضوی | Islamic Article | Tehseeni Foundation
📞 WhatsApp: 7417998845
📍 Bareilly, Uttar Pradesh

موذن رسول حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ

توحید احمد خان رضوی

موذن رسول حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ
📅 06 Jul 2026 👁 120 Views

موذن رسول حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ

موذن رسول، عاشق صادق حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار ان نفوس قدسیہ میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کی راہ میں طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کیا لیکن پائے استقلال میں ذرا سا بھی جنبش نہیں آنے دی۔
آپ کا نام مبارک بلال اور لقب موذن رسول ہے۔ ہمارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آپکو سید الموذنین یعنی اذان دینے والوں کے سردار کا خطاب عطا فرمایا۔ آپ کے والد کا نام رباح اور والدہ کا نام حمامہ تھا اور آپ کی کنیت ابو عبد اللہ تھی۔

قبول اسلام:
حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام لانے کے حوالے سے سیرت کی کتب میں مختلف روایتیں موجود ہیں۔ منقول ہے کہ آپ ان سات اشخاص میں سے ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ آپ سے پہلے حضرت ابو بکر صدیق، حضرت خدیجہ، حضرت علی، حضرت زید بن حارثہ، حضرت عمار اور حضرت یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اسلام کے دامن میں آچکے تھے۔

آپ پر مظالم:
حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ امیہ بن خلف کے غلام تھے۔ آپ کے اسلام قبول کرنے سے وہ آگ ببولہ ہو گیا اور اس نے آپ پر ظلم کرنا شروع کر دیا۔ اس نے اپنا یہ معمول بنا لیا تھا کہ روزآنہ نصف النہار کے وقت حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گرم ریت پر لٹا کر سینے پر تپتی ہوئی چٹانیں رکھ دیتا۔ اس حالت میں آپ پر کوڑے برسائے جاتے اور کہا جاتا کہ ان کے باطل خدا کو خدا تسلیم کرو لیکن امیہ کے اتنے ظلم و ستم کے باوجود حضرت سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے عزم و استقلال میں ذرا سا بھی فرق نہیں آتا۔ آپ اس کے ظلم و ستم کے جواب میں ایک ہی آواز بلند کرتے "احد، احد" یعنی اللہ ایک ہے اللہ ایک ہے۔
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک روز حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے گزرا۔ اس وقت آپ کو گرم کنکریوں پر لٹایا گیا تھا اور وہ کنکریاں اتنی شدید گرم تھیں کہ اگر ان پر گوشت کا ٹکڑا رکھ دیا جائے تو وہ پک جاۓ۔ اس سب کے باوجود حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبان پر ایک ہی کلمہ جاری تھا، احد احد۔
امیہ بن خلف کے ظلم و ستم کی وجہ سے حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کمر پر زخم ہو گئے تھے جن سے خون بہتا تھا۔

آزمائش کا دور ختم:
وقت کے گزرنے کے ساتھ امیہ بن خلف کا حضرت بلال پر ظلم و ستم بھی بڑھتا جا رہا تھا کبھی وہ حضرت بلال کو رسی میں باندھ کر بچوں کے حوالہ کر دیتا تھا وہ بچے حضرت بلال کو گھسیٹتے ہوئے گلیوں میں گھماتے تھے۔ آخر کار ایک دن ایسا آیا جب حضرت بلال کا یہ آزمائش کا دور ختم ہوا۔ ایک دن امیہ بن خلف حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کھمبے سے باندھ کر کوڑے بر سا رہا تھا۔ ادھر سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گزرہوا تو آپ نے امیہ بن خلف سے کہا کہ تم کب تک اس مظلوم پر ظلم ڈھاتے رہوگے؟ امیہ بن خلف نے جواب میں کہا کہ اگر تمہیں اس پر زیادہ ترس آرہا ہے تو تم اس کو خرید لو۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوراً تیار ہو گئے اور اس سے قیمت پوچھی۔ امیہ بن خلف نے دو سو درہم مانگے، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی منہ مانگی قیمت ادا کرکے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خرید کر آزاد کر دیا۔ اس طرح حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آزمائش کا دور ختم ہوا۔
اور اب جب آپ آزاد ہو گئے تو آپ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں آگئے اور جان و دل سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں مصروف ہو گئے۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دنیا کو سکھایا کہ نبی سے کیسا عشق ہونا چاہیے، آپ نے اپنا تن من دھن سب حضور پر قربان کر دیا۔آپ نے اپنی خواہشات ، مال و اَسباب ، اَولاد و قریبی رِشتہ دار حتّٰی کہ اپنی جان سےبھی بڑھ کر اللہ کریم اور اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سےمَحَبَّت کی اور اس مَحَبَّت کو ہمیشہ اپنے دل میں بسائےرکھا ، نتیجۃً آپ کے عمل سے خُوش ہو کر رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نےکئی مواقع پرآپ  کی تعریف وتوصیف فرمائی اور جنت میں اپنےغلام کےقدموں کی آواز کوبھی سنا ۔

قدموں کی آہٹ:
معراج کی رات  نبیِّ کریم ، خاتمُ النَّبِیِّیْن صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جنت میں کسی کے قدموں کی آہٹ سُنی ، جس کے بارے میں آپ کو بتایا گیا کہ یہ حضرت بلالِ  حبشی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے  قدموں کی آواز ہے۔
( مشکاۃ المصابیح، حدیث : ۶۰۳۷ملتقطا)

حضرت بلال کے فضائل سید الانبیاء کے فرمان کی روشنی میں:
سرکار دو جہاں صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےایک مرتبہ حضرت بلال رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی طرف اِشارہ کرکےفرمایا : بروزِقیامت جنتی  اُونٹنی پرسُوار ہوکراذان کہیں گے اور جب اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمّدًا رَّسُوْلُ  اللہ کےکلمات کہیں گےتو تمام انبیائے کرام  عَلَیْہِمُ السَّلام اور اُن کےاُمّتی حضرت بلال(رَضِیَ اللہُ عَنْہُ) کودیکھ رہے ہوں گے۔ نبیوں اور شہیدوں کے بعد سب سے پہلے بلالِ حبشی  کو جنتی لباس پہنایا جائے گا۔
(ابن عساکر ، رقم :  ۹۷۴ ، بلال بن رباح ،  ۱۰ / ۴۵۹ ، حدیث : ۲۶۵۵ ،  ملتقطاً) 

  حُضورنبیِّ اکرم صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : بروزِ قیامت حضرت بلال (رَضِیَ اللہُ عَنْہُ) ایسے اُونٹ پر سُوار ہوکرآئیں گےجس کا کجاوہ سونے اور یاقوت سے آراستہ  ہوگا ، اُن کےساتھ ایک جھنڈا ہو گا ، تمام مؤذنین اُس جھنڈے کےپیچھے پیچھے ہوں گے حتّٰی کہ اُنہیں جنت میں داخل کر دے گایہاں تک کہ وہ بھی جنت میں داخل ہوجائےگاجس  نےصِرْف  چالیس(40) دن اللہ پاک کی رِضا کے لئے اذانیں دی ہوں گی۔
(ابن عسا کر ، رقم : ۹۷۴ ، بلال بن رباح ،  ۱۰ / ۴۶۰ ،  حدیث :  ۲۶۵۷)

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وصال ظاہری کے وقت حضرت بلال کی حالت:
سیر و تاریخ کی کتابوں میں ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس دنیا سے وصال ظاہری فرمایا اس وقت حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ غم سے نڈھال ہو گئے تھے، آپ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے کے سامنے بیٹھ کر روتے رہتے تھے، آپ نے اذان دینا بھی بند کر دی تھی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب نماز کا وقت ہوا تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے حضرت بلال سے اذان دینے کو کہا تو آپ نے کہا کہ مجھ میں اب اتنی ہمت نہیں ہے کہ اذان دے سکوں۔ آپ کی یہ حالت دیکھ کر حضرت ابو محزورہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان دی اور پھر وہی مسجد نبوی کے موذن مقرر ہوئے۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جب اذان نہ دینے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں اب خود میں یہ ہمت نہیں پاتا کہ جب اذان میں حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نام لوں اور انہیں سامنے نہ پاؤں۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وصال ظاہری کے بعد حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ غمیگن رہنے لگے، آپ ہر وقت نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو تلاش کرتے رہتے اور جب کہیں نظر نہیں آتے تو آپ بے اختیار رونا شروع فرما دیتے تھے۔ آپ کو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اب دنیا میں تنہا رہ گئے ہیں اور گوہر مقصود ہاتھ سے نکل گیا ہے۔
جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ بنے تو حضرت بلال نے آپ سے جہاد میں جانے کی اجازت طلب لیکن حضرت ابو بکر صدیق نے یہ کہتے ہوئے منع فرما دیا کہ میری عمر اب زیادہ نہیں بچی ہے تم مجھے چھوڑ کر نہ جاؤ تو حضرت بلال نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات مان لی۔

بیت المقدس میں اذان:
حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں جب بیت المقدس فتح ہوا تو حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیت المقدس آنے کی دعوت دی۔ آپ جس وقت بیت المقدس پہنچے تو مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدنا بلال علی اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
"اے ہمارے سردار بلال ! آج اسلام کے قبلہ اول پر توحید کا پرچم لہرا دیا گیا ہے اس با عظمت موقع پر آپ اذان دیں۔“

مدارج النبوت میں منقول ہے کہ حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس فرمائش پر عرض کیا کہ امیر المؤمنین میں عہد کر چکا تھا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد کبھی اذان نہ دوں گا مگر آپ آج آپ کے ارشاد کی تعمیل میں اذان دوں گا۔ اس کے بعد آپ بیت المقدس کی چھت پر اذان دینے کے لئے چڑھ گئے۔
حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جس وقت میں بیت المقدس کی چھت پر اذان دینے کے لئے چڑھا تو میری آنکھوں کے سامنے ماضی کے مناظر اُبھر آئے ۔ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے پہلی ملاقات، مسجد نبوی میں پہلی مرتبہ اذان اور پھر فتح مکہ کے موقع پر بیت اللہ کی چھت پر اذان یہ سب مناظر میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہے تھے۔ پھر جس وقت میری زبان سے اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدا بلند ہوئی میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور جس وقت میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے رسول ہونے کی گواہی دی اُس وقت مجھ پر بے پناہ رقت طاری ہو گئی۔ اُس وقت ہزاروں کی تعداد میں صحابِی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم موجود تھے۔ سب کے سب روتے روتے نڈھال ہو گئے ۔ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اتنا روئے کہ اُن کی ہچکی بندھ گئی۔ میں نے انہیں آخری مرتبہ اس طرح حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وصال پر روتے دیکھا تھا۔ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حال بھی نہایت برا تھا۔ حضرت معاذ بن جبل کا حسین چہرہ جو صرف مسکرانے کے لئے ہی بنا تھا وہ بھی زار و قطار رو رہے تھے ۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ابھی اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔ جب میں نے اذان ختم کی تو اس کے بعد کہیں جا کر سب کے دلوں کو قرار آیا۔

ملک شام کو روانگی:
حضرت سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے درخواست کی کہ انہیں ملک شام میں رہنے کی اجازت دی جائے ۔ چنانچہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو ملک شام میں رہنے کی اجازت دے دی ۔ ملک شام جا کر آپ نے شہر دمشق میں رہائش اختیار کی جہاں پر آپ تادم وصال موجود رہے۔ ۲۰ محرم سن ۲۰ ہجری میں آپ کا وصال ہوا۔

دربار نبی سے بلاوا:
جب حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملک شام چلے گئے تو ایک رات حضرت بلال کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے :
’’اے بلال! یہ کیا بے وفائی ہے؟ (تو نے ہمیں ملنا چھوڑ دیا)، کیا ہماری ملاقات کا وقت نہیں آیا؟‘‘
خواب سے بیدار ہوتے ہی اونٹنی پر سوار ہو کر لبیک! یا سیدی یا رسول اﷲ! کہتے ہوئے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے مسجدِ نبوی پہنچ کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی نگاہوں نے عالمِ وارفتگی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھونڈنا شروع کیا۔ کبھی مسجد میں تلاش کرتے اور کبھی حجروں میں، جب کہیں نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور پر سر رکھ کر رونا شروع کر دیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا تھا کہ آکر مل جاؤ، غلام ملاقات کے لیے حاضر ہوا ہے۔ یہ کہا اور بے ہوش ہو کر مزارِ پُر انوار کے پاس گر پڑے، کافی دیر بعد ہوش آیا۔ اتنے میں سارے مدینے میں یہ خبر پھیل گئی کہ مؤذنِ رسول حضرت بلال رضی اللہ عنہ آگئے ہیں۔ مدینہ طیبہ کے بوڑھے، جوان، مرد، عورتیں اور بچے اکٹھے ہو کر عرض کرنے لگے کہ بلال! ایک دفعہ وہ اذان سنا دو جو محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سناتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں معذرت خواہ ہوں کیونکہ میں جب اذان پڑھتا تھا تو اشہد ان محمداً رسول اﷲ کہتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا تھا۔ اب یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے کسے دیکھوں گا؟
بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ حسنین کریمین رضی اﷲ عنہما سے سفارش کروائی جائے، جب وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے لیے کہیں گے تو وہ انکار نہ کرسکیں گے۔ چنانچہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :
’’اے بلال! ہم آج آپ سے وہی اذان سننا چاہتے ہیں جو آپ (ہمارے ناناجان) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مسجد میں سناتے تھے۔‘‘
اب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو انکار کی گنجائش نہ رہی، لہٰذا اسی مقام پر کھڑے ہوکر اذان دی جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات میں دیا کرتے تھے۔ بعد کی کیفیات کا حال کتبِ سیر میں یوں بیان ہوا ہے :
جب حضرت بلال رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے’’اللہُ اَکْبَر ُ اللہُ اَ  کْبَر ‘‘سےاَذان کاآغازفرمایاتومدینۂ طَیِّبَہ  میں لوگ بےتاب ہوگئے ، جب’’ اَشْہَدُ اَنْ لَّاۤاِلٰہَ اِلَّااللہ‘‘کےکلمات کہےتو لوگوں کی بے چینی اِس قدر بڑھ گئی کہ ہرطرف رونا دھونا شروع ہو گیا ، پھر جب’’ اَشْھَدُ اَنَّ مُحْمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ‘‘پر پہنچے تو لوگ اپنے آپ سے اجنبی ہوگئے ، ایک دوسرے سے پوچھنے لگے : کیا رسولِ خدا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ  مزارِ پُر اَنوار سے باہَرتشریف لے آئے ہیں؟
حُضورنبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کےوِصالِ ظاہِری کےبعد اَہلِ مدینہ میں کبھی اتنی زیادہ آہ و زاری نہ ہوئی تھی جتنی اس دن دیکھنےمیں آئی۔ 
(سیر اعلام النبلاء،ابن عساکر ، رقم : ۴۹۳ ،  فتاوی رضویہ ، ۱۰ / ۷۲۰ملخصاً)