وطن عزیز بھارت میں بڑھتا اسلاموفوبیا - توحید احمد خان رضوی | Islamic Article | Tehseeni Foundation
📞 WhatsApp: 7417998845
📍 Bareilly, Uttar Pradesh

وطن عزیز بھارت میں بڑھتا اسلاموفوبیا

توحید احمد خان رضوی

وطن عزیز بھارت میں بڑھتا اسلاموفوبیا
📅 02 Jul 2026 👁 132 Views

وطن عزیز بھارت میں بڑھتا اسلاموفوبیا

بھارت دنیا کا ایک بڑا جمہوری ملک ہے، یہاں پر صدیوں سے مختلف مذہبوں، زبانوں اور تہذیبوں کے ماننے والے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے چلے آئے ہیں۔ اس یکجھتی نے ملک ہندوستان کو دنیا میں ایک الگ شناخت دی ہے۔ 

لیکن بد قسمتی سے گزشتہ کچھ سالوں سے اس ملک میں مذہبی منافرت، تعصب مذہبی شناخت کی بنا پر ظلم کے واقعات نے ملک کی شبیہ کو داغدار کرنے کا کام کیا ہے۔

اسلامو فوبیا کیا ہے؟

اسلامو فوبیا یہ دو لفظ Islam اور Fobia سے ملکر بنا ہے۔

اسلاموفوبیا سے مراد اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بے بنیاد خوف، نفرت، تعصب، امتیازی رویہ یا منفی پروپیگنڈا ہے۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کو ان کے مذہب، لباس، عبادات یا شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا ہے، ان کے خلاف غلط فہمیاں پھیلائی جاتی ہیں اور انہیں معاشرے میں شک نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

اسلامو فوبیا کو بڑھانے میں اہم کردار:

ملک میں اسلامو فوبیا کا زہر گھولنے میں سوشل میڈیا، ملکی میڈیا، سیاسی لیڈران کا اہم کردار رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر نفرتی پیغامات کی ترسیل:

ملک میں اسلامو فوبیا کو بڑھانے میں نفرت کرنے والوں نے سوشل میڈیا کو ایک بڑا ہتھیار بنایا۔ سوشل میڈیا پر آئے دن مسلمانوں کے خلاف نفرتی پیغامات کی ترسیل، اسلامی احکامات کا استہزاء، مسلم بزرگ شخصیات پر منفی تبصرے، بے بنیاد الزامات کو لیکر قوم مسلم پر طعن وتشنیع اور ان جیسی نہ جانے کتنی حرکتیں ہیں جو سوشل میڈیا پر کی جا رہی ہیں اور کہیں نہ کہیں ایسے لوگوں کو حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ کیونکہ اس طرح کی حرکت پر ان پر کوئی سخت کارروائی نہ ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ در پردہ حکومت ان کی پشت پناہی کر رہی ہے۔

ملکی میڈیا میں نفرت کو بڑھاوا دینے والی ڈیبیٹ:

میڈیا کو جمہوریت کا ایک اہم ستون مانا جاتا ہے۔ لیکن اگر آپ گزشتہ کچھ برسوں کا جائزہ لیں تو آپ یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ ملک میں نفرت اور انتشار کا ماحول قائم کرنے میں میڈیا کا بھی کردار کم نہیں ہے۔ روزآنہ ڈیبیٹ کے نام پر اسلام مخالف پروپیگنڈا چلانا اور بین المذاھب نفرت کو بڑھاوا دینا اب عام بات ہو گئی ہے۔ دوسرے الفاظ میں کہا جاۓ تو ملک کا مین اسٹریم میڈیا حکومت کی کٹھ پتلی بن کر رہ گیا ہے۔ 

سیاسی لیڈران کے نفرتی بیانات:

ملک کی سیاست پچھلے کچھ سالوں سے جتنی نیچتا پر اتر آئی ہے شاید ہی ملک کی تاریخ میں کبھی ایسا ہوا ہو۔ آج کل کوئی بھی نیتا جسے شہرت مطلوب ہو وہ مسلمانوں کے خلاف بھونکنے لگتا ہے اور کچھ پارٹیاں اس کو اپنا اسٹار بنا لیتی ہیں کیونکہ ان کی سیاست ہی اسی پر چل رہی ہے۔ کرسی بچانے کی خاطر ملک کے لیڈران ملک کے باہمی اتحاد کو توڑنے کی ناپاک کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اور ان سب کا سب سے بڑا ہدف مسلمان ہیں، آئے دن سیاسی اسٹیج سے مسلم مخالف پیغامات کی ترسیل و تشہیر اور مسلمانوں کو دھمکیاں دینا کچھ مخصوص پارٹیوں کے لیڈران کی ریت بن چکا ہے۔ 

کسی فرد کے جرم کو قوم سے جوڑنا:

اسلاموفوبیا کو بڑھاوا دینے کے طریقوں میں سے ایک طریقہ کسی فرد کے جرم کو قوم سے جوڑنا بھی ہے۔ قوم مسلم کا کوئی فرد اگر کوئی جرم کر بیٹھتا ہے تو اس کے جرم کو لیکر پوری قوم کو نہ صرف طعن وتشنیع کی جاتی ہے بلکہ پوری قوم کو ملک سے باہر بھیجنے، حکومتی اسکیم سے محروم رکھنے تک کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا اور ملکی میڈیا پر اس فرد کے جرم کی پاداش میں پوری قوم سے نفرت پیدا کرنے کی کوشش میں ڈیبیٹ چلائی جاتی ہیں۔

یہ چند اسباب جو بہت زیادہ پائے جاتے ہیں وہ یہاں ذکر کر دیے گئے ورنہ اس کے علاوہ اور بھی اسباب ہیں جن کے ذریعہ اسلاموفوبیا پیدا کرکے اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کو بڑھاوا دیکر ملک کی اصل طاقت کو کمزور کیا جا رہا ہے اور ملک کی جمہوریت کی شبیہ کو بگاڑنے کی ناپاک کوشش کی جا رہی ہے۔

اسلاموفوبیا کے نقصانات:

اگر چہ ظاہر میں اسلاموفوبیا سے نقصان مسلم قوم کو ہی اٹھانا پڑ رہا ہے،لیکن حکومت میں بیٹھےلوگوں کو سوچنا چاہیے کہ اس سے ملک کی اصل طاقت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس ملک کی اصل طاقت باہمی اتحاد ہے۔ اس طرح کے واقعات سے باہمی اتحاد کی جڑیں کھوکھلی ہو رہی ہیں جو ملک کی جمہوریت کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی گنگا جمنی تہذیب، مذہبی رواداری اور قومی یکجہتی میں پوشیدہ ہے۔ اسلاموفوبیا جیسے رجحانات نہ صرف مسلمانوں بلکہ پورے ملک کی سماجی ہم آہنگی اور ترقی کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نفرت کے بجائے محبت، تعصب کے بجائے انصاف اور اختلاف کے بجائے مکالمے کو فروغ دیں۔ جب ہر شہری ایک دوسرے کے مذہب، عقیدے اور بنیادی حقوق کا احترام کرے گا، تبھی ہمارا وطن امن، ترقی اور خوش حالی کی راہ پر مزید مضبوطی سے گامزن ہوگا۔