حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ - حیات اور کارنامے - توحید احمد خان رضوی | Islamic Article | Tehseeni Foundation
📞 WhatsApp: 7417998845
📍 Bareilly, Uttar Pradesh

حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ - حیات اور کارنامے

توحید احمد خان رضوی

حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ - حیات اور کارنامے
📅 30 Jun 2026 👁 169 Views

حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ - حیات اور کارنامے

سراج السالکین زبدۃ العارفین چشم و چراغ خاندان برکات حضرت سیدنا شاہ ابوالحسین احمد نوری مارہروی صاحب علیہ الرحمہ خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مقدسہ کی عظیم بشارت بن کر دنیا میں تشریف لانے والی ذات تاجدار اہل سنت شہزادۂ اعلیٰ حضرت ابوالبرکات آل الرحمن محی الدین مفتی اعظم حضرت علامہ شاہ محمد مصطفی رضاخاں قادری برکاتی نوری علیہ الرحمہ کی ہے۔ آپ نے اپنی ۹۲ سالہ حیات میں دین و سنیت کی وہ عظیم خدمات انجام دی ہیں جنہیں رہتی دنیا تک یاد رکھا جائےگا۔

ولادت با سعادت:
شہزادۂ امامِ اہلِ سنّت ، مفتیِ اعظم ہند ، حضرت علّامہ مولانا مفتی محمدمصطفیٰ رضا خان نوری رضوی رحمۃُ اللہ علیہ 22 ذی الحجہ 1310ھ کو صبح صادق کے وقت بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔
آپ رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش کے وقت حضور سیّدی اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِ سنّت رحمۃُ اللہ علیہ اپنے مُرشِد خانہ مارہرہ شریف میں تھے۔ 
صبح کو فجر کی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں حاضر ہوئے اور جب مسجد کی سیڑھیوں پر چڑھنے لگے تو نور العارفین حضرت سید شاہ ابوالحسین احمد نوری قدس سرہ سے ملاقات کا شرف خاصل ہوا،آپ کو مخاطب فرماتے حضرت نورالعارفین نے بشارت سنائی اور مبارک باد دیتے ہوئے فرمایا: مولاناصاحب آپ کے یہاں ایک عظیم فرزند کی ولادت ہوئی ہے ، وہ بچہ نہایت مبارک ہے ، ہم نے اس کانام آل الرحمن ابوالبرکات محی الدین جیلانی رکھاہے۔ ساتھ میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ہم جلد ہی بریلی آکر اس بچہ کی روحانی امانتیں اس کے سپرد کریں گے۔
سیدنا اعلیٰ حضرت نے بریلی شریف آکر ساتویں دن ’’محمد‘‘ نام پر آپ کا عقیقہ کیا اور عرفی نام ’’مصطفی رضا‘‘ تجویز فرمایا۔

خلافت اور بشارت نوری:
حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کی ولادت کے چھ ماہ بعد جمادی الآخرہ۱۳۱۱ھ میں حضرت نورالعارفین بریلی تشریف لائے اور آپ کو گود میں لے کر خلافت سے سرفراز فرمایااور جدید وقدیم تیرہ سلاسل کی اجازت عطا فرمائی، ساتھ ہی ارشاد فرمایا: یہ بچہ مادر زاد ولی ہے ، فیض کے دریا بہائے گا۔
اس کے بعد امام اہل سنت اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے بھی اپنے لخت جگر کو تمام سلاسل کی اجازت عطا کی ، اس طرح خاندان برکات کے دو چشم و چراغ سے حضور مفتی اعظم ہند نے بلاواسطہ فیض پایا۔
 

تعلیم وتربیت:
حضور مفتی اعظم ہند رحمۃُ اللہ علیہ کی عمر جب چار سال چار ماہ اور چار دن ہوئی تو رسمِ بسم اللہ خوانی خود امامِ اہلِ سنت نے فرمائی اور بڑے بیٹے حضور حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ کو آپ کی تعلیم و نگہداشت کے لئے خاص طور پر مقرر کرتے ہوئے فرمایا : ” میری مصروفیات سے تم باخبر ہو تم اپنے بھائی کو پڑھاؤ۔ “
حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے جملہ علوم و فنون اپنے والد ماجد سیدنا امام احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہ ۔ برادر اکبر حجۃ الاسلام حضرت علامہ شاہ محمد حامد رضا خاں صاحب علیہ الرحمۃ و الرضوان۔ استاذ الاساتذہ علامہ شاہ رحم الہی منگلوری ۔ شیخ العلماء علامہ شاہ سید بشیر احمد علی گڑ ھی ۔ شمس العلماء علامہ
ظہور الحسین فاروقی رامپوری سے حاصل کئے اور ۱۸ سال کی عمر میں تقریباً چالیس علوم و فنون میں مہارت حاصل کر کے سند فراغت حاصل کی۔

تدریس:
حضور مفتیِ اعظم ہند رحمۃُ اللہ علیہ نے 1328ھ میں جامعہ رضویہ منظرِ اسلام میں طلبہ کو دینی تعلیم دینے کا سلسلہ شروع کیا لیکن دارُالافتاء اور فتویٰ نویسی کی مصروفیات زیادہ ہونے کی وجہ سے مخصوص طلبہ کو ہی پڑھاتے تھے۔

فتوٰی نویسی
حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے 1328ھ میں 18سال کی کم عمری میں رضاعت کے مسئلہ پر پہلا فتویٰ لکھا۔
 والدِ ماجد اعلیٰ حضرت کی زیرِ نگرانی 1328ھ سے 1340ھ تک مسلسل 12 سال فتاویٰ لکھتے رہے۔ آپ کی فتوٰی نویسی کی ابتدا کا واقعہ بھی بڑا دلچسپ ہے۔
واقعہ یوں ہے کہ جب آپ فارغ التحصیل ہوئے تو کسی دن دارالافتا میں تشریف لائے ، دیکھا کہ تلمیذ اعلیٰ حضرت ملک العلما مولانا ظفرالدین بہاری فتویٰ لکھنے کے سلسلہ میں فتاویٰ رضویہ کے مطالعہ میں مشغول ہیں ، آپ نے فرمایا: فتاویٰ رضویہ دیکھ کر فتویٰ لکھتے ہیں؟۔ ملک العلما نے جواب دیا: اچھا تو آپ بغیر دیکھے لکھ دیں تو جانوں، آپ نے فوراً مراجعت کتب کے بغیر مدلل فتویٰ تحریر فرمادیا ، یہ رضاعت کا مسئلہ تھا ۔
فتویٰ جب اصلاح کے لیے مجدد اعظم امام احمد رضا کی بارگاہ میں پیش ہوا تو آپ نے فرمایا: یہ کس نے لکھا ہے؟ عرض کیا گیا: چھوٹے میاں نے ، (اس وقت تک آپ گھر اور باہر اسی عرفیت سے مشہور تھے) آپ نے طلب فرمایا: حضور مفتی اعظم حاضر ہوئے تو دیکھا کہ اعلیٰ حضرت نہایت مسرور ہیں ، پیشانی اقدس سے بشاشت نمایاں ہے ۔ فرمایا: اس پر دستخط کرو، دستخط کرانے کے بعد آپ نے تحریری طور پر اس کی تصدیق وتصویب فرمائی۔ ساتھ ہی پانچ روپے انعام میں عطا فرمائے اور ارشاد فرمایا:
تمہاری مہربنوادیتاہوں ،اب فتوی لکھا کرو، اپنا ایک رجسٹر بنالو اس میں نقل بھی کرلیا کرو۔ [پندرہ روزہ رفاقت ، فروری ۱۹۸۲ئ]
اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے آپ کی مہر بنوائی اور اس پر لکھا "ابو البرکات محی الدین جیلانی آل الرحمن عرف محمد مصطفی رضا".

حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کا درس افتاء:

فتویٰ نویسی سکھانے میں حضور مفتیِ اعظم ہند رحمۃُ اللہ علیہ ایک امتیازی شان کے مالک تھی۔ آپ رحمۃُ اللہ علیہ درسِ افتا میں اس بات کا خيال فرماتے تھے کہ صرف مخصوص حکم کی پہچان نہ ہو بلکہ مسئلے کے تمام پہلو ذہن نشین ہو جائیں۔ پہلے آیات و احادیث سے استدلال کرتے ، پھر اصولِ فقہ و حدیث سے اس کی تائید دکھاتے اور قواعدِ کلیہ کی روشنی میں اس کا جائزہ لے کر کتبِ فقہ سے جزئیات پیش فرماتے ، پھر مزید اطمینان کے لئے اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ  کا ارشاد نقل فرماتے۔ اگر مسئلہ میں اختلاف ہوتا تو قولِ راجح کی تعیین دلائل سے کرتے اور اصولِ افتا کی روشنی میں یہ بھی بتاتے کہ فتویٰ کس پر ہے ؟ پھر امام اہل سنت  رحمۃُ اللہ علیہ کے ارشاد سے اس کی تائید پیش فرماتے۔ عام طور سے جواب بہت مختصر اور سادہ لکھنے کی تاکید فرماتے۔ ہاں کسی عالم کا بھیجا ہوا استفتا ہوتا اور وہ ان تفصیلات کا طلب گار ہوتا تو پھر جواب میں وہی رنگ اختیار کرنے کی بات ارشاد فرماتے۔

تدریس:
 مفتیِ اعظم ہند رحمۃُ اللہ علیہ نے 1328ھ میں جامعہ رضویہ منظرِ اسلام میں طلبہ کو دینی تعلیم دینے کا سلسلہ شروع کیا لیکن دارُالافتاء اور فتویٰ نویسی کی مصروفیات زیادہ ہونے کی وجہ سے مخصوص طلبہ کو ہی پڑھاتے تھے۔

تصنیف و تالیف:
حضرت مفتیِ اعظم ہند رحمۃُ اللہ علیہ نے اپنی کثیر مصروفیات کے باوجود مختلف موضوعات پر بہت ساری کتابیں لکھی ہیں جوآپ کی علمی صلاحیت اور فقہی مہارت کا بین ثبوت ہیں۔ آپ کی تحریر میں آپ کے والد ماجد اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ  کے اسلوب کی جھلک اور تحقیق کا کمال نظر آتا ہے۔ آپ کی  تصنیفات یہ ہیں : 
1۔ المکرمۃ النبویۃ فی اللفتاوی المصطفویہ 
2۔ اشد العذاب علی عابد الخناس (۱۳۲۸)
3۔ وقعات السنان فی حلق المسماۃ بسط البنان (۱۳۳۰)
4۔ الرمح الدیانی علی راس الوسواس الشیطانی (۱۳۳۱)
5۔ النکتہ علی مراۃ کلکتہ (۱۳۳۲)
6۔ صلیم الدیان لتقطیع حبالۃ الشیطان (۱۳۳۲)
7۔ سیف القہار علی عبد الکفار (۱۳۳۲)
8۔ نفی العار عن معائب المولوی عبد الغفار (۱۳۳۲)
9۔ مقتل کذب وکید (۱۳۳۲)
10۔ مقتل اکذب و اجہل (۱۳۳۲)
11۔ ادخال السنان الی الحنک الحلق البسط البنان (۱۳۳۲)
12۔ وقایۃ اہل السنۃ عن مکر دیوبند و الفتنۃ (۱۳۳۲)
13۔ الہی ضرب بہ اہل الحرب (۱۳۳۲)
14۔ الموت الاحمر علی کل انحس اکفر (۱۳۳۷)
15۔ الملفوظ۔
16۔ القول العجیب فی جواز التثویب (۱۳۳۹)
17۔ الطاری الداری لہفوات عبد الباری (۱۳۳۹)
18۔ طرق ا لہدی و الارشاد الی احکام الامارۃ و الجہاد (۱۳۴۱)
19۔ فصل الخلافۃ (۱۳۴۱)
20۔ حجۃ واہرہ بوجوب الحجۃ الحاضرہ (۱۳۴۲)
21۔ القسورۃ علی ادوار الحمر الکفرۃ (۱۳۴۳)
22۔ سامان بخشش (نعتیہ دیوان) ( ۱۳۴۷)
23 طرد الشیطان (عربی)
24۔ مسائل سماع
25۔ سلک مرادآباد پر معترضانہ رمارک
26۔ نہایۃ السنان
27۔ شفاء العی فی جواب سوال بمبئی 
28۔ الکاوی فی العاوی و الغاوی (۱۳۳۰)
29۔ القثم القاصم للداسم القاسم (۱۳۳۰)
30۔ نور الفرقان بین جند الالہ و احزاب الشیطان (۱۳۳۰)
31۔ تنویر الحجۃ بالتواء الحجۃ
32۔ وہابیہ کی تقیہ بازی
33۔ الحجۃ الباہرہ
34۔ نور العرفان
35۔ داڑ ھی کا مسئلہ
36۔ حاشیہ الاستمداد ( کشف ضلال ویوبند)
37۔ حاشیہ فتاوی رضویہ اول
38۔ حاشیہ فتاوی رضویہ پنجم

شعر و شاعری:

حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ اپنے وقت کے استاذ الشعراء تھے ، والدِ ماجد امامِ اہلِ سنّت رحمۃُ اللہ علیہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے عشقِ رسول سے بھرپور نعتیہ شاعری فرمائی۔ آپ اپنا تخلص اپنے پیر و مرشِد کے تخلص پر ” نوری “ رکھتے تھے۔ آپ کے کلام کا مجموعہ ” سامانِ بخشش “ کے نام سے مشہور ہے۔

حضور مفتیِ اعظم ہندکی طلبہ سے شفقت و محبت:
حضور مفتیِ اعظم ہند رحمۃُ اللہ علیہ طلبہ پر نہایت مہربان تھے ، انھیں شفقت و محبت سے نوازتے ، ہر طرح ان کی خدمت کرتے ، غریب طلبہ کو ان کے عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے خفیہ طور پر خرچ کے لئے رقوم بھی عنایت فرماتے۔ کوئی طالبِ علم مسئلہ پوچھتا تو حضرت نہایت شفقت سے اطمنان بخش جواب عنایت فرماتے ، جلسہ کے موقع پر عُلما و طلبہ کے لئے خصوصی دعوت کا اہتمام فرماتے ، خوشی کے موقع پر کھانے پکوا کر طلبہ کو کھلاتے تھے ، بہت سے طلبہ ایسے تھے جو دونوں وقت حضرت کے یہاں کھانا کھاتے تھے۔ بعض طلبہ کو ان کے علمی ذوق کی بنا پر حضرت خود اپنے مکان پر ٹھہراتے اور نہایت لطف و کرم سے رہائش اور کھانے کا بندوبست فرماتے نیز ان کو اپنے علمی و روحانی فیضان سے مالا مال فرماتے۔
عبادت و ریاضت:
حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ عبادت و ریاضت میں بھی اعلی مقام رکھتے تھے۔ سفر و حضر میں کبھی بھی آپ کی نماز پنجگانہ قضا نہیں ہوتی تھی، ہر نماز وقت پر ادا فرماتے ، سفر میں نماز کا اہتمام نہایت مشکل ہوتا ہے لیکن حضر ت پوری حیات مبارکہ اس پر عامل رہے ۔ اس سلسلہ میں چشم دید واقعات لوگ بیان کرتے ہیں کہ نماز کی ادائیگی و اہتمام کیلئے ٹرین چھوٹنے کی بھی پرواہ نہیں فرماتے تھے ، خود نماز ادا کرتے اور ساتھیوں کو بھی سخت تاکید فرماتے ۔

حضور مفتی اعظم ہند کی مجاہدانہ زندگی:
شہزادہ اعلی حضرت کی پوری زندگی دین و سنیت اور قوم کی بے لوث خدمت میں صرف ہوئی۔ آپ کی زندگی میں کچھ ایسے موڑ بھی آئے جس میں آپ نے مجاہدانہ کردار ادا کرتے ہوئے میدان میں اتر کر قوم کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔ 

آپ کے دور میں شدھی تحریک کے نام سے مسلمانوں کے ایمان کو لوٹنے کے سازش رچی گئی جس کا قلع قمع کرنے کے لیے حضور مفتی اعظم ہند میدان میں آئے اور باطل پرستوں سے پنجہ آزمائی کرتے ہوئے لاکھوں لوگوں کو کلمہ پڑھایا اور بے شمار مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کی گئی۔ نسبندی کا طوفان بھی آپ کی زندگی کے اخیر دور میں آیا۔ اس حکومتی فرمان کے سامنے جب بڑوں بڑوں کے قدم متزلزل ہو گئے اس وقت اعلی حضرت کا یہ شہزادہ حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر شرعی حکم کو ببانگ دہل بیان کرتا ہے اور کہتا ہے کہ نسبندی حرام ہے حرام ہے حرام ہے۔

حج و زیارت:
حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے تین مرتبہ حج و زیارت کی سعادت حاصل کی مگر کبھی تصویر نہیں بنوائی بلکہ ہر بار بغیر تصویر کے پاسپورٹ سے حج پر تشریف لے گئے۔ تیسری مرتبہ حج بیت اللہ پر جاتے وقت بھارت کی حکومت کی جانب سے پاسپورٹ پر تصویر لگانےکا قانون سخت ہو گیا تھا۔ چنانچہ آپ سے تصویر لگانے کو کہا گیا تو آپ نے برجستہ انکار کرتے ہوئے فرمایا” مجھ پر جو حج فرض تھا وہ میں نے کرلیا، اب نفل حج کیلئے اتنا بڑا ناجائز کام کرکے دربار مصطفوی میں کیسے حاضر ہوسکتا ہوں، میں تصویر ہرگز نہیں کھینچواؤں گا۔ جب اس سے قبل گیا تھا، اس وقت تصویر کی پابندی نہیں تھی۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ جس رسول محترم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت مطہرہ میں تصویر کھینچوانا،رکھنا،بنانا سب حرام ہے،میں اس رسول محترم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں تصویر کھینچوا جاؤں، یہ مجھ سے نہیں ہوگا”۔ حضور تاجدار مدینہ سرور قلب و سینہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اس غلام کی استقامت و اتباع سنت کی یہ ادا پسند آئی تو اپنے دربار میں حاضری کیلئے خصوصی انتظام فرمایا اور احباب نے جب بغیر تصویر پاسپورٹ کیلئے کوشش کی تو حکومت ہند اور حکومت سعودی عرب نے آپ کو خصوصی اجازت نامہ جاری کیا اور پھر جب آپ جدہ پہنچے تو آپ کا شاندار استقبال کیا گیا اور جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو برہنہ پاپیادہ آنکھوں سے آنسو جاری اور جسم پر رقت طاری تھی اور حاضری مدینہ طیبہ کا بڑا پُر کیف و ایمان افروز منظر تھا۔ 

وصال پر ملال:
آسمان علم و فن کا یہ روشن ستارہ، محبوب پروردگار کا یہ عاشق صادق مختصر علالت کے بعد ١٤، محرم الحرام ١٤٠٢ھ بمطابق ١٢ نومبر١٩٨١ء رات ایک بج کر چالیس منٹ پر کلمہ طیبہ کا ورد کرتا ہوا خالقِ حقیقی سے جاملا۔ اناللّٰہ واناالیہ راجعون۔
حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے کے وصال پر ملال کی خبر دنیا کے مشہور ریڈیو اسٹیشنوں نے نشر کی۔ اگلے دن نماز جمعہ کے بعد اسلامیہ کالج کے وسیع میدان میں تین بج کر پندرہ منٹ پر نمازجنازہ ہوئی اور تقریباً چھ بجے اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے بائیں پہلو میں سپرد خاک کردیا گیا۔ نماز جنازہ میں لاکھوں افراد کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔ جو حضور مفتی اعظم کی مقبولیت وشہرت اور جلالتِ شان کا کھلا ثبوت تھا۔