زکوٰۃ کی اہمیت احادیثِ کریمہ کی روشنی میں - توحید احمد خان رضوی | Islamic Article | Tehseeni Foundation
📞 WhatsApp: 7417998845
📍 Bareilly, Uttar Pradesh

زکوٰۃ کی اہمیت احادیثِ کریمہ کی روشنی میں

توحید احمد خان رضوی

زکوٰۃ کی اہمیت احادیثِ کریمہ کی روشنی میں
📅 29 Jun 2026 👁 127 Views

زکوٰۃ کی اہمیت احادیثِ کریمہ کی روشنی میں

اسلام کی بنیاد جن پانچ چیزوں پر ہے ان میں سے ایک زکوٰۃ بھی ہے۔ احادیثِ کریمہ میں زکوٰۃ دینے کی بہت ساری فضیلتیں وارد ہوئی ہیں اور جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے انہیں سخت عذاب کی وعیدیں بھی سنائی گئی ہیں۔ اسلام نے امیروں کے مال میں غریبوں کا بھی حصہ رکھا ہے، اگر اسلامی اصول کے مطابق صحیح طور پر لوگ زکوٰۃ ادا کریں تو ہمارے معاشرے میں کافی حد تک غریبی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ ہم یہاں پر چند احادیث کریمہ پیش کر رہے ہیں جن سے زکوٰۃ کی ااہمیت بخوبی پتہ چلتی ہے۔
حدیث:
حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا:
"قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔"
آپ نے یہ جملہ تین مرتبہ فرمایا، پھر سرِ مبارک جھکا لیا۔ ہم سب نے بھی سر جھکا لیا اور رونے لگے۔ ہمیں معلوم نہ تھا کہ آپ کس بات پر قسم کھا رہے ہیں۔ پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے سرِ مبارک اٹھایا، چہرۂ اقدس خوشی سے جگمگا رہا تھا۔ یہ منظر ہمیں سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب تھا۔
پھر آپ نے ارشاد فرمایا:
"جو شخص پانچ وقت کی نماز ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے، زکوٰۃ ادا کرے اور ساتوں کبیرہ گناہوں سے بچے، اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا: سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔"(سنن نسائی، حدیث نمبر 440 )

حدیث:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرو، کیونکہ وہ تمہیں پاک کرنے والی ہے۔ یہ تمہیں گناہوں سے پاک کرے گی، رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کرو، مسکینوں، پڑوسیوں اور سائلوں (مانگنے والوں) کے حقوق کو پہچانو۔"
‘(المسندللامام احمد بن حنبل،مسند انس بن مالک ،الحدیث ۱۲۳۹۷،ج۴،ص۲۷۴)
حدیث:
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "زکوٰۃ اسلام کا پل ہے۔" (المعجم الاوسط، حدیث 8937)
حدیث:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
”جو بھی سونا یا چاندی والا شخص اپنے اس مال کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرتا، اس کے لیے قیامت کے دن آگ کی تختیاں تیار کی جائیں گی اور انہیں جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر ان سے اس کے پہلو، اس کی پیشانی اور پشت کو داغا جائے گا۔ جب جب بھی تختیاں ٹھنڈی ہوجائیں گیں، انھیں دوبارہ گرمایا جائے گا۔ یہ عذاب ایک ایسے دن میں ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہوگی۔ (یہ سلسلہ جاری رہے گا) یہاں تک بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے اور (عذاب میں گرفتار شخص) جنت یا جہنم کی جانب اپنا راستہ دیکھ لے۔“ عرض کیا گيا: اے اللہ کے رسول! اونٹوں کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اونٹوں کا مالک ہو اور وہ ان کا حق (زکوۃ) ادا نہ کرتا ہو اور ان کا حق یہ بھی ہے کہ ان کو پانی پلانے کے دن (ضرورت مندوں اور مسافروں کے لیے) ان کا دودھ دوہا جائے، تو قیامت کے دن اس شخص کو اونٹوں کے سامنے ایک ہموار میدان میں منہ کے بل اوندھا ڈال دیا جائے گا اور اس کے سارے اونٹ پہلے سے بھی زیادہ فربہ حالت میں وہاں موجود ہوں گے اور ان میں سے اونٹ کا ایک بچہ تک بھی کم نہ ہوگا۔ يہ اونٹ اپنے کھروں سے اس شخص کو روندیں گے اور اپنے منہ سے اسے کاٹیں گے۔ ان میں سے جب آخری اونٹ گزر جائے گا، تو اس پر ان میں سے پہلے اونٹ کو دوبارہ لوٹا دیا جائے گا۔ یہ عذاب ایسے دن میں ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہو گی۔ (یہ سلسلہ جاری رہے گا) یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے اور وہ جنت یا جہنم کی جانب اپنا راستہ دیکھ لے۔" عرض کیا گيا: اے اللہ کے رسول! گائے اور بکریوں کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : "جو شخص گایوں اور بکریوں کا مالک ہو اور ان کا حق ادا نہ کرتا ہو، قیامت کے دن اسے ایک ہموار میدان میں اس کی گایوں اور بکریوں کے سامنے اوندھے منہ ڈال دیا جائے گا۔ ایک بھی گائے یا بکری کم نہیں دکھے گی۔ کسی کا سینگ نہ مڑا ہوگا، نہ ٹوٹا ہوگا اور نہ کوئی بلا سینگ ہوگی۔ وه اپنے سينگوں سے اسے ماریں گی اور اپنے کھروں سے اسے کچلیں گی۔ جب آخری گائے یا بکری روند کر چلی جائے گی، تو پہلی کو دوبار لوٹا دیا جائے گا۔ یہ عذاب ايسے دن ميں ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی۔ (یہ سلسلہ جاری رہے گا،) یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے اور وہ شخص جنت یا دوزخ کی طرف اپنا راستہ دیکھ لے۔  (مسلم شریف، حدیث 987)
حدیث:
سرکار دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا فرمان عالیشان ہے: ’زکوۃ کا مال جس میں ملا ہوگا اسے تباہ وبرباد کردے گا ۔‘‘(شعب الایمان،حدیث۳۵۲۲)
صدر الشریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ الرحمہ اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں : بعض ائمہ نے اس حدیث کے یہ معنی بیان کیے کہ زکاۃ واجب ہوئی اور ادا نہ کی اور اپنے مال میں ملائے رہا تو یہ حرام اُس حلال کو ہلاک کر دے گا اور امام احمد (رَحْمَۃُ اللہِ تعالٰی عَلَیْہ )نے فرمایا کہ معنے یہ ہیں کہ مالدار شخص مالِ زکاۃ لے تویہ مالِ زکاۃ اس کے مال کو ہلاک کر دے گا کہ زکاۃ تو فقیروں کے لیے ہے اور دونوں معنے صحیح ہیں۔(بہارشریعت،ج۱،حصہ ۵،ص۸۷۱)
حدیث:
نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم نے فرمایا:”جوقوم زکوٰۃ نہ دے گی اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے قحط میں مبتلاء فرمائے گا ۔”  (المعجم الاوسط ،حدیث۴۵۷۷)
   حدیث:
 پیارے نبی صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا:” جب لوگ زکوٰۃ کی ادا ئیگی چھوڑ دیتے ہیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ بارش کو روک دیتا ہے اگر زمین پر چوپا ئے مو جود نہ ہو تے تو آسمان سے پا نی کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا ۔”
 (سنن ابن ماجہ، حدیث۴۰۱۹)
 حدیث:
حضرت سیدناعبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:”زکوۃ نہ دینے والے پر رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے ۔”
 (صَحِیْحُ ابْنِ خُزَیْمَۃ،حدیث ۲۲۵۰)
حدیث:
آخری نبی صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’خشکی وتری میں جو مال برباد ہوا ہے وہ زکوٰۃ نہ دینے کی وجہ سے ہلاک ہوا ہے۔‘‘(مجمع الزوائد،حدیث۴۳۳۵)
حدیث:
حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے،رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’فقیر ہرگز ننگے بھوکے ہونے کی تکلیف نہ اٹھائیں  گے مگر مال داروں  کے ہاتھوں ، سن لو! ایسے مالداروں  سے اللّٰہ تعالیٰ سخت حساب لے گا اور انہیں  دردناک عذاب دے گا۔( معجم الاوسط، حدیث: ۳۵۷۹)
حدیث:
نبی آخر الزمان صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: "دوزخ میں سب سے پہلے تین شخص جائیں گے ان میں سے ایک وہ مالدار کہ اپنے مال میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا حق ادا نہیں کرتا۔‘‘(صحیح ابن خزیمہ، حدیث۲۲۴۹ ملخصاً)
اوپر ذکر کی گئی احادیث سے زکوٰۃ کی اہمیت ہر کسی پر روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم شرعی تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کریں تاکہ قیامت کے دن ہمیں ان ہولناکیوں سے پناہ حاصل ہو۔ اللّٰہ تعالٰی ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین