پیکر صبر ورضا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے نواسے ، خاتون جنت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نور نظر ،مولاے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کےجگر پارےاور خاندان نبوت کے چشم وچراغ تھے۔ آپ تاریخِ اسلام کی ایک عظیم شخصیت، امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ، ملت اسلامیہ کے محافظ وپاسبان ، حق وصداقت کے علم بردار، صبر و رضا کے پیکراورقیامت تک کے حق کے متلاشیوں کے لیے نور و ہدایت کے لئے عظیم مینارہ تھے، آپ کی حیات مبارکہ کا ہر گوشہ درخشاں ، ہر پہلو نمایاں اور ہر زاویہ تابندہ ہے۔ آپ علم وعمل ، فضل وکمال ،جود وسخا ، زہد وورع اور حلم وبردباری کے ساتھ تمام تر اخلاقی محاسن وکمالات کے جامع تھے۔
کربلا کی زمین پر اسلامی نظام کے احیا کی خاطر اپنی اور اپنے گھر والوں کی عظیم قربانی پیش کرکے ظالم وجابر حکمراں کے سامنے کلمات حق بلند کرنے کی جو عظیم مثال پیش کی اس کی نظیر تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔
ولادت با سعادت:
حضرت سیدنا امام حسین رَضِیَ اللہ عَنْہ کی ولادت باسعادت 5 شعبانُ المعظم 4 ہجری کو حضرت علی رضی اللہُ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہُ عنہا کے گھر مدینۂ منورہ میں ہوئی۔ آپ کا اسمِ مبارک حسین رکھا گیا۔ آپ کی کُنْیت ’’ابو عبدُاللہ‘‘ اورآپ کے ا لقاب “ سِبۡطُ رَسُوۡلِ اللہِ‘’یعنی رسولِ خدا کے نواسے، ‘‘سید شباب اھل الجنۃ’’یعنی جنتی جوانوں کے سردار اور ’’ رَیْحَانَۃُ الرَّسُوْل‘‘یعنی رسولِ خدا کے پھول ہیں۔
جب حضرت امام حسین رضی اللہُ عنہ پیدا ہوئے تو رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ کے کان میں اذان دی، آپ کی تحنیق فرمائی، آپ کا نام حسین رکھا اور آپ کو اپنا بیٹا فرمایا۔ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دو دنبوں کے ذریعے آپ رضی اللہُ عنہ کا عقیقہ فرمایا اور حضرت فاطمہ رضی اللہُ عنہا کو آپ کا سَر مونڈانے اور سَر کے بالوں کے برابر چاندی صدقہ کرنے کا حکم دیا۔
بچپن میں آپ کی شہادت کی شہرت:
آپ کی شہادت کی شھرت بچپن میں ہی ہو گئی تھی۔ نانچہ ایک مرتبہ حضرت سیّدنا جبریل امین علیہ السّلام رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ امام حسین رضی اللہُ عنہ بھی حاضر بارگاہ ہوگئے اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک گود میں بیٹھ گئے۔ جبریل امین علیہ السّلام نے عرض کی : “ آپ کی اُمّت آپ کے اس بیٹے کو شہید کردے گی ۔ “ جبریل امین علیہ السّلام نے بارگاہ رسالت میں مقامِ شہادت کا نام بتاکر مٹی بھی پیش کی ۔ (معجم کبیر ، 3 / 108 ، حدیث : 2817 سے ماخوذ)
امام حسین رضی اللہُ عنہ کو ایک فضیلت یہ بھی حاصل ہے کہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے لختِ جگر حضرت ابراہیم رضی اللہُ عنہ کو ان پر قربان فرمایا چنانچہ مروی ہے کہ ایک روز حضور پرنُور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دائیں زانو مبارک پر امام حسین اور بائیں پر حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہُ عنہ بیٹھے تھے ، حضرت جبریل علیہ السّلام نے حاضر ہوکر عرض کی : ان دونوں کو اللہ پاک حضور کے پاس(اکٹھا) نہ رکھے گا ایک کو اختیار فرمالیجئے۔ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے امام حسین رضی اللہُ عنہ کی جدائی گوارا نہ فرمائی ، تین دن کے بعد حضرت ابراہیم رضی اللہُ عنہ کا وصال ہو گیا ۔ اس واقعہ کے بعد حضور نبیِّ رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب آپ كو آتا دیکھتے تو بوسہ دیتے ، سینے سے لگالیتے اور فرماتے : “ فَدَيْتُ مَنْ فَدَيْتُهُ بِابْنِي اِبْرَاهِيمَ “ یعنی میں اس پر قربان کہ جس پر میں نے اپنا بیٹا ابراہیم قربان کیا ۔ (تاریخ بغداد ، 2 / 200)
حلیہ مبارکہ :
سید الشھدا حضرت امام حسین رضی اللہُ عنہ رنگ و جسامت میں نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مشابہ تھے جیساکہ حضرت علیُّ المرتضیٰ شیرِ خدا کرّم اللہُ وجہہ الکریم فرماتے ہیں : جس کی یہ خواہش ہو کہ وہ ایسی ہستی کو دیکھے جو چہرےسے گردن تک سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سب سے زیادہ مُشابہ ہو وہ حَسن بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھ لے اور جس کی یہ خواہش ہو کہ ایسی ہستی کو دیکھے جو گردن سے ٹخنے تک رنگ و جَسامت میں نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سب سے زِیادہ مُشابہ ہو وہ حُسین بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھ لے۔ (معجم کبیر ، 3 / 95 ، حدیث : 2768)
حضرت علّامہ جامی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : حضرت امامِ عالی مقام سیِّدُنا امامِ حُسین رضی اللہُ عنہ کی شان یہ تھی کہ جب اندھیرے میں تشریف فرما ہوتے تو آپ کی مبارَک پیشانی اور دونوں مقدّس رُخسار (یعنی گال) سے انوار نکلتے اور قرب و جوار ضِیا بار (یعنی اطراف روشن) ہو جاتے۔ (شواہد النبوۃ ، ص228)
حضرت امام عالی مقام اور عبادات کی کثرت:
حضرت امام عالی مقام کی حیات مبارکہ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آپ زہد وورع کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے ، عبادت گزاری اور خشیتِ الٰہی میں بھی آپ امتیازی شان کے حامل تھے۔
امام ذہبی نے ’’سیر اعلام النبلاء‘‘میں لکھا : ‘‘آپ زاہدوں کے سردار اور عبادت گزاروں کے امام تھے۔’’ (سیر أعلام النبلاء، ج:3، ص:289)
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شب بیداری اور تہجد سے خاص انسیت تھی۔ امام ابن عساکرنے اپنی کتاب ’’تاریخ دمشق‘‘میں لکھا: ‘‘ آپ نے اپنی زندگی میں کبھی تہجد کی نماز ترک نہ کی، حتیٰ کہ شہادت کے دن بھی نہیں۔’’ (تاریخ دمشق، ابن عساکر، ج: 14، ص:217)
امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ ، جو جلیل القدر محدث و مفسر ہیں، اپنی کتاب ’’تاریخ الخلفاء‘‘میں امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھتے ہیں: ‘‘حضرت امام حسین عبادت گزار، فضیلت والے، اور کثرت سے روزے رکھنے اور نماز پڑھنے والے تھے۔’’ (تاریخ الخلفاء، ص: 207)
حضرت امام حسین اور عفو و دگزر:
حضرت امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اخلاق وکردار اور عفوودر گزر جیسے اوصاف میں اپنے نانا جان مصطفیٰ جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے عکس جمیل تھے ، آپ نے اپنے جانی دشمنوں کو بھی معاف فر ماکر ان کے لیے ہدایت کی دعا فر مائی ۔
علامہ شمس الدین ذہبی نے سیر أعلام النبلاء میں لکھا: ‘‘حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمانوں کے سردار، بڑے فقیہ، عبادت گزار، سخی، شجاع، اور معاف کرنے والےتھے۔’’ (سیر أعلام النبلاء، ج: 3، ص: 289)
احادیث میں فضائل و مناقب:
حضرت امام حسین رضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل کثرت سے احادیث میں وارد ہیں۔ پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ رضی اللہُ عنہ کو اپنی گود میں بٹھایا، سونگھا، اپنے سینے سے لگایا، اپنی مبارک چادر میں لیا، آپ کو جنتی جوانوں کا سردار اور دنیا میں میرا پھول فرمایا۔
اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا فرمان ہے: حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ پاک اس سے محبت فرماتا ہے جو حسین سے محبت کرے۔ (ترمذی، حدیث:3800)
نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کی: اے اللہ! میں اس (یعنی امام حسین رضی اللہُ عنہ) سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما اور جو اس سے محبت کرے اس سے محبت فرما۔ (ترمذی، حدیث: 3794)
حسنین کریمین سے محبت حقیقت میں محبت رسول ہے:
پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی شیر خدا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے لخت جگر امام حسن اور امام حسین سے بےپناہ محبت اور پیار کیا کرتے تھےاور ایک مقام پر حضور علیہ الصلاۃ و السلام نے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا اور ان کی محبت کو اپنی محبت کا معیار قرار دیااوران سے عداوت یعنی دشمنی کو اپنی دشمنی قرار دی چنانچہ ارشاد نبی کریم ہے:
‘‘ مَنْ اَحَبَّھُمَا فَقَدْ اَحَبَّنِیْ وَمَنْ اَبْغَضَھُمَا فَقَدْ اَبْغَضَنِیْ ’’
یعنی جس نے ان دونوں سےمَحَّبت کی اس نے مجھ سے مَحَّبت کی اور جس نے ان سے عَداوت کی اس نے مجھ سے عَداوت کی۔ (ابن ماجہ،کتاب السنۃ،باب فی فضائل اصحاب رسول اللّٰہ، حدیث:۱۴۳)
حضرت امام حسین اور واقعہ کربلا:
حضرت امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حیات پاک کا سب سے اہم باب واقعۂ کر بلا ہے یہ تاریخِ اسلام کا وہ روشن باب ہے جس کی روشنی قیامت تک انسانیت کو راہ دکھاتی رہے گی۔ یہ صرف ایک جنگ نہیں، بلکہ یہ ایک دینی ،روحانی، فکری اور اخلاقی انقلاب ہے۔
واقعۂ کربلا کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ یہ حق و باطل کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دیتا ہے۔ جب اسلامی خلافت کے نام پر یزید جیسا فاسق، ظالم جابر، اور بے عمل حکمران اقتدار پر قابض ہوا اور دین کے نام پر ظلم، بے عدلی اور فسق پھیلانے لگا توحضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دین وشریعت کے مقابلے میں کسی کی بھی پروا نہیں کی اور یزید کی بیعت کا صاف انکار فرماتے ہوئے حق کا راستہ اختیار کیا اور دنیاوی مال ومنال اور عیش وآرام کو ٹھوکر مارکر راہِ حق میں پہنچنے والی مصیبتوں کاخوش دلی سے استقبال کیا اور ہزار آفتوں اور بلاؤں کے باوجود یزید جیسے فاسقِ وفاجر کی بیعت کا خیال بھی اپنے قلبِ مبارک میں نہ آنے دیا ۔
کربلا میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے عظیم کردار سے انسانیت کو یہ سبق ملا کہ ظلم کے سامنے جھک جانا بزدلی ہے، اور حق پر ڈٹ جانا ہی اصل کامیابی ہے، چاہے اس کی قیمت جان کی قربانی ہی کیوں نہ ہو۔
حضرت امام حسین کی شھادت:
پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وصال ظاہری کے وقت حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر شریف تقریباً 6 سال 6ماہ کی تھی، آپ رضی اللہُ عنہ نے 56سال 5ماہ کی عمر میں 10محرم الحرام 61ھ کو اعلائے کلمۃ الحق، شرعی احکام کی حفاظت اور اسلامی نظام کو نئی زندگی بخشتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔
اسلام میں یومِ عاشوراء یعنی 10 محرمُ الحرام کو بہت اہمیت حاصل ہے اس دن بہت سے واقعات رونما ہوئے مثلا حضرت نوح علیہ السّلام کی کشتی کا کوہِ جودی پر ٹھہرنا ، حضرت یونس علیہ السّلام کا مچھلی کے پیٹ سے باہر آنا ، حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی ولادت ، حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی ولادت ، حضرت موسیٰ علیہ السّلام اور اُن کی قوم کا دریائے نیل سے پار ہونا اور فرعون کا اپنی قوم سمیت (دریائے نیل میں ) غرق ہونا وغیرہ لیکن اس دن کو سب سے زیادہ شہرت اس بات سے ملی کہ اسی دن سیِّدُنا امامِ حسین رضی اللہُ عنہ اور آپ کے خاندان اور رفقاء کو بھوک اور پیاس کی حالت میں میدانِ کربلا میں نہایت بے رحمی کے ساتھ شہید کیا گیا۔ 10 محرمُ الحرام آپ کی شہادت کی نسبت سے بہت مشہور ہوگیا ۔