جعلی اور بے شرع پیروں کا بڑھتا دائرہ - توحید احمد خان رضوی | Islamic Article | Tehseeni Foundation
📞 WhatsApp: 7417998845
📍 Bareilly, Uttar Pradesh

جعلی اور بے شرع پیروں کا بڑھتا دائرہ

توحید احمد خان رضوی

جعلی اور بے شرع پیروں کا بڑھتا دائرہ
📅 17 May 2026 👁 130 Views

جعلی اور بے شرع پیروں کا بڑھتا دائرہ

آج کے پر فتن دور میں جہاں اور فتنے قوم مسلم کے لیے ناسور کی شکل اختیار کرے ہوئے ہیں وہیں جعلی اور بے شرع پیر کا فتنہ بھی قوم مسلم کو مزید تباہی کے دہانے پر لے جا رہا ہے۔  یہ فتنہ گزشتہ کچھ برسوں سےخوب ترقی پر ہے اور ان بے شرع جعلی پیروں کا دائرہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، جس کی روک تھام کے لیے اگر جلد ہی موثر کوششیں نہیں کی گئیں تو یہ فتنہ قوم کو بہت زیادہ نقصان پہونچانے والا ہوگا۔ *پیر کے لیے شرائط* جامع شرائط مرشد سے بیعت ہونا ایک مستحب اور با برکت کام ہے۔ امام اہل سنت اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے مرشد کامل کے لئے چار شرائط بیان فرمائی ہیں، ان کے بغیر ان کی بیعت جائز نہیں۔ 1. پیر کا سلسلہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک صحیح اتصال کے ساتھ پہنچتا ہو۔ بیچ میں منقطع نہ ہو۔ کچھ لوگ بغیر بیعت صرف وراثت کی وجہ سے اپنے باپ دادا کے سجادے پر بیٹھ جاتے ہیں، یا بیعت تو کی تھی مگرخلافت نہ ملی تھی  بغیر اجازت مرید کرنا شروع کر دیتے ہیں، یا یہ کہ سلسلہ تو صحیح تھا مگر بیچ میں کوئی ایسا شخص واقع ہوا جو کچھ شرائط نہ پائے جانے کی وجہ سے بیعت کے قابل نہیں تھا اس سے جو شاخ چلی وہ بیچ سے منقطع ہے ان تمام صورتوں میں اس بیعت سے ہرگز اتصال حاصل نہیں ہوگا۔ 2. پیر سنی صحیح العقیدہ ہو۔ بد مذہب گمراہ کا سلسلہ شیطان تک پہنچے گا نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک۔ 3. پیر عالم ہو۔ مسائل کا اتنا علم کافی ہے کہ اپنی ضرورت کے مسائل خود کتابوں سے نکال سکے۔ اور عقائد اہل سنت سے پورے طور پر واقف ہو، کفر و اسلام اور گمراہی و ہدایت کے فرق کا خوب جاننے والا ہو۔ 4. فاسق معلن نہ ہو۔ (فتاویٰ افریقہ، ص ۱۲۳, ۱۲۴ ملخصا) مذکورہ بالا شرائط پڑھنے کے بعد اب ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو دیکھیں گے کہ آجکل ایسے پیروں کی کثرت ہے جو خود بھی شریعت سے دور ہیں اور اپنے مریدوں کو بھی شریعت کے احکام پر عمل آوری کی تلقین نہیں کرتے ہیں۔ کچھ پیر تو ایسے بھی آپکو ملیں گے جو داڑھی منڈے ہیں اور علی الاعلان خلاف شرع کام کرنے میں ذرا سی بھی شرم نہیں کرتے۔ *بے شرع پیروں کے معمولات* آجکل کے بے شرع اور جعلی پیروں کا یہ معمول بن چکا ہے کہ وہ اجنبییہ عورتوں سے نہ صرف یہ کہ بلا تکلف ملاقات کرتے ہیں بلکہ ان سے ہاتھ پیر دبوانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ جبکہ شریعت مطہرہ نے ان کاموں کو حرام قرار دیا ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: "وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ غَيْرَ أَنَّهُ يُبَايِعُهُنَّ بِالْكَلَامِ" یعنی اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ہاتھ کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں لگا بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان سے کلام سے بیعت فرماتے تھے۔ (صحیح مسلم، حدیث 4834) ایسے بے شرع پیروں کا ایک غیر شرعی کام یہ بھی ہے کہ ہاتھوں میں دو دو چار انگوٹھیاں ڈالے رہتے ہیں، انہیں اس بات کی فکر نہیں کہ شریعت مطہرہ نے مردوں کو صرف چاندی کی ایک انگوٹھی کی اجازت دی ہے جو وزن میں ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو۔ ایسے بے شرع پیر گاہے بگاہے لوگوں کو علماء اور علم سے دور کرنے کی کوشش میں بھی لگے رہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ عوام اگر علماء کے قریب ہو گئی تو ہماری یہ دکان بند ہو جائے گی، اس لیے وہ اسی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ عوام کو علماء سے دور کیا جائے اور ان کے دلوں سے علماء کی قدر کو کم کیا جائے۔ اس کے لیے وہ مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ کبھی یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ یہ مولوی ظاہر ہی کا علم رکھتے ہیں اور ہم باطن کا علم رکھتے ہیں۔ جبکہ حقیقت تو یہ ہوتی ہے کہ اگر پیر جی سے اسی علم سے متعلق کچھ پوچھ لیا جائے تو سخت سردی کے موسم میں بھی پسینہ آجاۓ۔ اس طرح کے پیروں نے عوام میں ایک اور غلط بات مشہور کردی ہے کہ مولوی لائن الگ ہے اور فقیری لائن الگ ہے، ہم فقیری لائن والے ہیں۔ ارے پیر جی ذرا یہ تو بتائیں کہ یہ دو لائنیں کہاں سے آگئیں۔ قرآن و حدیث میں تو ہمیں ایک ہی راستے پر چلنے کی تلقین کی جسے صراط مستقیم کہا گیا ہے۔ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک سیدھی لائن کھینچی اور اس کے آس پاس چند اور لائنیں کھینچیں پھر اس سیدھی ایک لائن کو طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ یہ صراط مستقیم ہے، اور باقی تمام راستے شیطان کے راستے ہیں۔ ارے پیر جی دیکھ لیجئے آپکا والا راستہ کون سا ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ آپکا راستہ شریعت کے خلاف ہو اور وہ شیطان کا راستہ ہے۔ خدارا اگر ایسے کسی راستے پر ہوں تو اس راستے سے ہٹ کر شریعت کے راستے پر آجائیں، یہی صراط مستقیم ہے اور یہی راستہ کامیابی کا راستہ ہے۔ اسی راستے پر تمام اللہ کے مقرب بندے چلے ہیں اور انہوں نے اپنے ماننے والوں کو اسی راستے پر چلنے کی تلقین کی ہے۔  *عوام کی ذمہ داری* قوم مسلم دن بدن دینی تعلیم سے دور ہوتی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو رہے ہیں۔ دینی علم سے نا واقف ہونے کا ہی نتیجہ ہے کہ عوام کی ایک اچھی خاصی تعداد ایسے پیروں کی مرید ہے۔ اس طرح کے جعلی اور بے شرع پیروں کو چاہیے بھی ایسے ہی مرید ہوتے ہیں جو دین اور دینی تعلیم سے دور ہوں۔ کیونکہ مرید اگر دینی تعلیم یافتہ ہوگا تو پیر جی کی غیر شرعی حرکات کو دیکھکر وہ کیسے پیر کی کی واه واہی کریگا؟ اس لئے ایسے پیر یہی چاہتے ہیں کہ عوام دینی علم سے دور رہے اور ہماری پیری مریدی اسی طرح فروغ پاتی رہے۔ یہاں عوام کو سوچنا ہوگا کہ وہ جس کے ہاتھ پر بیعت کر رہے ہیں کیا وہ واقعی بیعت کے لائق ہے؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ پیر جی کی صحبت میں رہکر اور شریعت سے دور نہ ہو جائیں۔ یہ بھی یاد رکھیں کوئی پیر کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اگر وہ شریعت کے خلاف کام کرتا ہے تو وہ ہرگز پیر بنانے کے لائق نہیں۔ بیعت میں انسان مرشد کامل کے ہاتھ میں ہاتھ دیکر یہ معاہدہ کرتا ہےکہ وہ ہر خلاف کام سے دور رہیگا اور فرائض و واجبات کی ادائیگی کریگا اس طرح بیعت کا مقصد غفلت اور معصیت سے نکلر تقوی اور اطاعت کی زندگی بسر کرنا ہے۔ اب مرید کو چاہیے کہ وہ ایسے ہی پیر سے بیعت ہو جو اسے اس مقصد کے حصول میں معاون ہوں۔ اور یہ مقصد تبھی حاصل ہوگا جب ہم کی متبع شریعت کے ہاتھ میں ہاتھ دیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالٰی قوم مسلم کو سمجھ عطا فرمائے اور جعلی بے شرع پیروں سے ان کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔