زانی اور زانیہ کے بچوں کا آپس میں نکاح ہو سکتا ہے کیا؟
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ زید شادی شدہ ہے اس کے بچے بھی ہیں اور اس کا تعلق اس کے سالے کی عورت ہندہ یعنی اس کی سلیج سے ہے جس کے باعث بچے بھی پیدا ہوئے اب زید کے اپنی بیوی کے بچے اور سالے کے نطفے سے جو بچے پیدا ہیں یعنی جو بچے پہلے پیدا ہو چکے ہیں اور یہ تعلق حرام کاری کا ہے نہ کہ شادی شدہ زندگی کا اب ایسی حالت میں زید کے بچے یعنی بیٹی کا نکاح ہندہ کے بیٹے سے شریعت کی روشنی میں جائز ہوگا کہ نہیں ۔ علمی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں نوازش ہوگی ۔۔
المستفتی: گدائے تحسینی محمد اکبر علی نوری ۔بریلی شریف 18 جماد الثانی 1446 ہجری ۔
جواب
جیسا کہ بحر الرائق میں ہے ۔ "یحل لاصول الزانی وفروعہ اصول المزنی بہا وفروعا" یعنی زانی کے اصول و فروع کے لیے زانیہ کے اصول و فروع حلال ہیں۔( بحر الرائق؛کتاب النکاح،ج،3،ص،108،دار الکتاب الاسلامی،بیروت )
لہذا صورۃ مسؤلہ میں زید کی بیٹی کا نکاح ہندہ کے اس بیٹے سے جائز ہے جو اس کے اپنے شوہر سے ہے، جبکہ کوئی اور وجہ حرمت کی نہ ہو ۔ واللہ اعلم بالصواب
کتبہ۔۔۔✍️
توحید احمد خاں رضوی
خاتم التدریس جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم بریلی شریف
تاریخ 19 جمادی الثانی 1446 ہجری
حوالہ:
Reference File