Ref No: 5 | 2026-01-05

نفلی روزہ توڑنے پر کیا کفارہ واجب ہوگا؟

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارےمیں کہ کیا نفلی روزہ توڑنے پر کفارہ لازم آتا ہے؟

جواب

الجواب بعون الملک العزیز الوہاب۔ صرف رمضان کاادا روزہ توڑنے کی صورت میں قضاکے ساتھ اس کا کفارہ بھی لازم ہوتا ہے، جبکہ کفارے کی تمام شرائط پائی جائیں۔اس کے علاوہ کسی بھی فرض چاہے وہ رمضان کے روزے کی قضا ہی ہو، واجب یا نفلی روزہ کو توڑنے کی صورت میں صرف اس کی قضا لازم ہو گی، کفارہ لازم نہیں ہو گا، البتہ روزہ فرض ہو یا نفل ، اگر جان بوجھ کر بغیر کسی عذرِ شرعی کے توڑا، تو گناہ ہو گا اور اس سے توبہ کرنی ہو گی۔

بدائع الصنائع میں ہے:

وأما صيام ‌غير ‌رمضان فلا يتعلق بإفساد شيء منه وجوب الكفارة، لأن وجوب الكفارة بإفساد ‌صوم ‌رمضان عرف بالتوقيف، وأنه ‌صوم شريف في وقت شريف لا يوازيهما غيرهما من الصيام والأوقات في الشرف والحرمة، فلا يلحق به في وجوب الكفارة

ترجمہ: رمضان کے علاوہ کسی روزے کے فاسد کرنے پر کفارہ نہیں،کیونکہ رمضان کا روزہ توڑنے پر کفارے کا واجب ہونا نص سے معلوم ہوا ہے اور یہ کہ یہ معزز روزہ ایک معزز وقت میں ہے کہ کوئی روزہ اور وقت عزت وشرف میں ان کے برابر نہیں، لہذا کسی اور روزے کو کفارے کے واجب ہونے کے لحاظ سے اس کےساتھ شامل نہیں کیا جائے گا۔ (بدائع الصنائع، کتاب الصوم ،جلد2،صفحہ102،دارالکتب العلمیہ،بیروت)
بہار شریعت میں ہے : ادائے رمضان کے علاوہ اور کوئی روزہ فاسد کر دیا، اگرچہ وہ رمضان ہی کی قضا ہو۔۔۔ان سب صورتوں میں صرف قضا لازم ہے، کفارہ نہیں۔ (بھارشریعت ، جلد1، صفحہ989، مکتبۃ المدینہ)
کتبہ
توحید احمد خان رضوی
خادم التدریس جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف

Roza Ref: 5

نفلی روزہ توڑنے پر کیا کفارہ واجب ہوگا؟

سوال کنندہ: Naeem Khan
مفتی: Tauheed Ahmad Khan Razvi | 📅 2026-01-05


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارےمیں کہ کیا نفلی روزہ توڑنے پر کفارہ لازم آتا ہے؟

جواب

الجواب بعون الملک العزیز الوہاب۔ صرف رمضان کاادا روزہ توڑنے کی صورت میں قضاکے ساتھ اس کا کفارہ بھی لازم ہوتا ہے، جبکہ کفارے کی تمام شرائط پائی جائیں۔اس کے علاوہ کسی بھی فرض چاہے وہ رمضان کے روزے کی قضا ہی ہو، واجب یا نفلی روزہ کو توڑنے کی صورت میں صرف اس کی قضا لازم ہو گی، کفارہ لازم نہیں ہو گا، البتہ روزہ فرض ہو یا نفل ، اگر جان بوجھ کر بغیر کسی عذرِ شرعی کے توڑا، تو گناہ ہو گا اور اس سے توبہ کرنی ہو گی۔

بدائع الصنائع میں ہے:

وأما صيام ‌غير ‌رمضان فلا يتعلق بإفساد شيء منه وجوب الكفارة، لأن وجوب الكفارة بإفساد ‌صوم ‌رمضان عرف بالتوقيف، وأنه ‌صوم شريف في وقت شريف لا يوازيهما غيرهما من الصيام والأوقات في الشرف والحرمة، فلا يلحق به في وجوب الكفارة

ترجمہ: رمضان کے علاوہ کسی روزے کے فاسد کرنے پر کفارہ نہیں،کیونکہ رمضان کا روزہ توڑنے پر کفارے کا واجب ہونا نص سے معلوم ہوا ہے اور یہ کہ یہ معزز روزہ ایک معزز وقت میں ہے کہ کوئی روزہ اور وقت عزت وشرف میں ان کے برابر نہیں، لہذا کسی اور روزے کو کفارے کے واجب ہونے کے لحاظ سے اس کےساتھ شامل نہیں کیا جائے گا۔ (بدائع الصنائع، کتاب الصوم ،جلد2،صفحہ102،دارالکتب العلمیہ،بیروت)
بہار شریعت میں ہے : ادائے رمضان کے علاوہ اور کوئی روزہ فاسد کر دیا، اگرچہ وہ رمضان ہی کی قضا ہو۔۔۔ان سب صورتوں میں صرف قضا لازم ہے، کفارہ نہیں۔ (بھارشریعت ، جلد1، صفحہ989، مکتبۃ المدینہ)
کتبہ
توحید احمد خان رضوی
خادم التدریس جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف