Ref No: 1 | 2025-10-22

کسی کے اصرار پر طلاق دی تو کیا طلاق ہو جائے گی؟

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ
زید پہلے سے شادی شدہ ہے۔ زید نے دوسرا نکاح ہندہ سے کیا۔ زید کے گھر والوں نے زید پر دباؤ بنایا کہ تم نے دوسری شادی کر لی ہے حالانکہ پہلی بیوی موجود ہے لہذا تم ہندہ کو طلاق دے دو۔ گھر والوں کے دباؤ میں آکر زید نے ہندہ کوطلاق دے دی ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا زید کی یہ طلاق واقع ہوگی ؟ زید نے بکر سے سوال پوچھا تو بکر نے جواب دیا کہ یہ طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ تم نے گھر والوں کے دباؤ میں آکر مجبوری میں یہ طلاق دی ہے۔
آپ سے گزارش ہے کہ رہنمائی فرمائیں کہ کیا بکر کایہ کہنا درست ہے کہ طلاق واقع نہیں ہوگی یا طلاق واقع ہو جائے گی ؟۔ جواب عنایت فرما کر رہنمائی فرمائیں۔

المستقتى
محمد تعظیم رضا
اعجاز نگر، بریلی شریف

جواب

الجواب بعون الملک العزیز الوہاب۔ صورت مسئولہ میں زید نے اپنی منکوحہ ہندہ کو جو طلاق دی ہے و ہ واقع ہوگئی۔

تنویر الابصار میں ہے:

يقع طلاق كل زوج عاقل بالغ ولو عبدا او مکرہا او ہاز لا اوسفیہا اوسکران"

یعنی بر عاقل و بالغ شوہر کی طلاق واقع ہوتی ہے اگر چہ غلام ہو، یا اس سے زبردستی کی گئی ہو یا مذاق کے طور پر دی ہو، یا بے ہوشی کی وجہ سے دی ہو یا نشہ میں دی ہو۔

(تنویر الابصار مع در مختار، کتاب الطلاق ، جلد 5 صفحہ 514)

امام اہل سنت سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

طلاق بخوشی دی جائے خواہ بجبر ، واقع ہو جائے گی۔ نکاح شیشہ ہے اور طلاق سنگ ۔ شیشہ پر پتھر خوشی سے پھینکے یا جبر سے یا خود ہاتھ سے چھوٹ پڑے، شیشہ ہر طرح ٹوٹ جائے گا۔ مگر یہ زبان سے الفاظ طلاق کہنے میں ہے۔ اگر کسی کے جبر واکراہ سے عورت کو خط میں طلاق لکھی یا طلاق نامہ لکھ دیا اور زبان سے الفاظ طلاق نہ کہے تو طلاق نہ پڑے گی ۔ "

(فتاوی رضویہ جلد ۲۱ باب الکنایہ صفحہ ۷۸۳ : مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن )
اکراہ شرعی یہ ہے کہ کسی نے قتل کرنے یا کسی عضو کو ہلاک کرنے تو ڑ دینے کی دھمکی دی اور یہ جانتا ہے کہ وہ جیسا کہہ رہا ہے ویسا کر دے گا تو یہ اکراہ شرعی ہوگا، کسی کے اصرار کرنے کو اکراہ شرعی نہیں کہا جا سکتا۔
فقیه ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی صاحب علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

اگر اکراہ شرعی پایا گیا مثلا ہندہ کے والد نے قتل کرنے یا ہاتھ پیر توڑنے کی دھمکی دی اور زید نے جانا کہ اگر میں طلاق نہیں دیتا ہوں تو یہ جیسا کہتا ہے کر ڈالیگا۔ تو اس صورت میں اگر زید نے طلاق نامہ لکھ دیا مگر نہ دل میں طلاق کی نیت تھی اور نہ زبان سے کہا تو طلاق واقع نہ ہوئی ۔ اور اگر اکراه شرعی نہیں پایا گیا اور طلاق لکھ دی یا زبان سے طلاق دی ہے تو ان صورتوں میں طلاق واقع ہوگئی۔

(فتاوی فیض الرسول ، جلد ۲ ، کتاب الطلاق )

مذکورہ صورت میں اولا تو اکراہ شرعی نہیں پایا جارہاہے کہ کسی کا اصرار کرنا اکراہ شرعی نہیں ہے اور ثانیا زبان سے طلاق دی ہے جو اکراہ شرعی کی صورت میں بھی واقع ہوگی۔ لہذازید نے ہندہ کو جو طلاق دی ہے وہ واقع ہوگئی ، اب اگر ایک یا دو طلاق رجعی دی ہیں تو عدت کے دوران رجعت کر سکتا ہے اور اگر تین طلاق دی ہیں تو اب وہ اس کے لئے بغیر حلالہ کے حلال نہیں ہوگی۔ بکر کا یہ کہنا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی یہ درست نہیں ہے ۔ بکر کو چاہیے کہ غلط مسئلہ بتانے سے پر ہیز کریں۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب۔
کتبه

تو حید احمد خان رضوی

الجواب صحیح والله تعالی اعلم محمد خورشید مصطفیٰ



خادم التدريس جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف

کا نگر نولہ، بریلی شریف

مورخه ۲۹ ربیع الثانی

Talaq Ref: 1

کسی کے اصرار پر طلاق دی تو کیا طلاق ہو جائے گی؟

سوال کنندہ: Tazeem Raza
مفتی: Tauheed Ahmad Khan Razvi | 📅 2025-10-22


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ
زید پہلے سے شادی شدہ ہے۔ زید نے دوسرا نکاح ہندہ سے کیا۔ زید کے گھر والوں نے زید پر دباؤ بنایا کہ تم نے دوسری شادی کر لی ہے حالانکہ پہلی بیوی موجود ہے لہذا تم ہندہ کو طلاق دے دو۔ گھر والوں کے دباؤ میں آکر زید نے ہندہ کوطلاق دے دی ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا زید کی یہ طلاق واقع ہوگی ؟ زید نے بکر سے سوال پوچھا تو بکر نے جواب دیا کہ یہ طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ تم نے گھر والوں کے دباؤ میں آکر مجبوری میں یہ طلاق دی ہے۔
آپ سے گزارش ہے کہ رہنمائی فرمائیں کہ کیا بکر کایہ کہنا درست ہے کہ طلاق واقع نہیں ہوگی یا طلاق واقع ہو جائے گی ؟۔ جواب عنایت فرما کر رہنمائی فرمائیں۔

المستقتى
محمد تعظیم رضا
اعجاز نگر، بریلی شریف

جواب

الجواب بعون الملک العزیز الوہاب۔ صورت مسئولہ میں زید نے اپنی منکوحہ ہندہ کو جو طلاق دی ہے و ہ واقع ہوگئی۔

تنویر الابصار میں ہے:

يقع طلاق كل زوج عاقل بالغ ولو عبدا او مکرہا او ہاز لا اوسفیہا اوسکران"

یعنی بر عاقل و بالغ شوہر کی طلاق واقع ہوتی ہے اگر چہ غلام ہو، یا اس سے زبردستی کی گئی ہو یا مذاق کے طور پر دی ہو، یا بے ہوشی کی وجہ سے دی ہو یا نشہ میں دی ہو۔

(تنویر الابصار مع در مختار، کتاب الطلاق ، جلد 5 صفحہ 514)

امام اہل سنت سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

طلاق بخوشی دی جائے خواہ بجبر ، واقع ہو جائے گی۔ نکاح شیشہ ہے اور طلاق سنگ ۔ شیشہ پر پتھر خوشی سے پھینکے یا جبر سے یا خود ہاتھ سے چھوٹ پڑے، شیشہ ہر طرح ٹوٹ جائے گا۔ مگر یہ زبان سے الفاظ طلاق کہنے میں ہے۔ اگر کسی کے جبر واکراہ سے عورت کو خط میں طلاق لکھی یا طلاق نامہ لکھ دیا اور زبان سے الفاظ طلاق نہ کہے تو طلاق نہ پڑے گی ۔ "

(فتاوی رضویہ جلد ۲۱ باب الکنایہ صفحہ ۷۸۳ : مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن )
اکراہ شرعی یہ ہے کہ کسی نے قتل کرنے یا کسی عضو کو ہلاک کرنے تو ڑ دینے کی دھمکی دی اور یہ جانتا ہے کہ وہ جیسا کہہ رہا ہے ویسا کر دے گا تو یہ اکراہ شرعی ہوگا، کسی کے اصرار کرنے کو اکراہ شرعی نہیں کہا جا سکتا۔
فقیه ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی صاحب علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

اگر اکراہ شرعی پایا گیا مثلا ہندہ کے والد نے قتل کرنے یا ہاتھ پیر توڑنے کی دھمکی دی اور زید نے جانا کہ اگر میں طلاق نہیں دیتا ہوں تو یہ جیسا کہتا ہے کر ڈالیگا۔ تو اس صورت میں اگر زید نے طلاق نامہ لکھ دیا مگر نہ دل میں طلاق کی نیت تھی اور نہ زبان سے کہا تو طلاق واقع نہ ہوئی ۔ اور اگر اکراه شرعی نہیں پایا گیا اور طلاق لکھ دی یا زبان سے طلاق دی ہے تو ان صورتوں میں طلاق واقع ہوگئی۔

(فتاوی فیض الرسول ، جلد ۲ ، کتاب الطلاق )

مذکورہ صورت میں اولا تو اکراہ شرعی نہیں پایا جارہاہے کہ کسی کا اصرار کرنا اکراہ شرعی نہیں ہے اور ثانیا زبان سے طلاق دی ہے جو اکراہ شرعی کی صورت میں بھی واقع ہوگی۔ لہذازید نے ہندہ کو جو طلاق دی ہے وہ واقع ہوگئی ، اب اگر ایک یا دو طلاق رجعی دی ہیں تو عدت کے دوران رجعت کر سکتا ہے اور اگر تین طلاق دی ہیں تو اب وہ اس کے لئے بغیر حلالہ کے حلال نہیں ہوگی۔ بکر کا یہ کہنا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی یہ درست نہیں ہے ۔ بکر کو چاہیے کہ غلط مسئلہ بتانے سے پر ہیز کریں۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب۔
کتبه

تو حید احمد خان رضوی

الجواب صحیح والله تعالی اعلم محمد خورشید مصطفیٰ



خادم التدريس جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف

کا نگر نولہ، بریلی شریف

مورخه ۲۹ ربیع الثانی

حوالہ:
Reference File